عوامی اثرات

یہ واقعہ پاکستانی معاشرے اور خاندانی نظام کے اس سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے جہاں زچگی کے بعد نئی ماؤں کو روایتی ٹوٹکوں اور پرانے طریقہ ہائے علاج پر مجبور کیا جاتا ہے۔ جدید طبی سائنس اور نوزائیدہ بچوں کے ماہرین کی واضح ہدایات کے باوجود، نوزائیدہ کو گھٹی، سرمہ اور جڑی بوٹیوں کے جوشاندے دینا ان کی نازک صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر سرمے میں موجود سیسہ (Lead) معصوم بچوں کے گردوں اور نظر کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اس طرح کے گھریلو دباؤ کا سب سے بڑا شکار نئی ماؤں کی نفسیاتی صحت ہوتی ہے۔ جب ایک سخت جسمانی مرحلے سے گزرنے والی خاتون کے جذبات کو 'ندیدہ پن' اور اس کی قدرتی خوراک کو 'صرف پانی' کہا جائے تو وہ شدید پوسٹ پارٹم ڈیپریشن کا شکار ہو سکتی ہے۔ ہمارا معاشرہ اکثر تجربے کی آڑ میں سائنسی حقائق اور خود ماں کی ترجیحات کو نظر انداز کر دیتا ہے، جس سے خاندانوں میں تلخیاں جنم لیتی ہیں۔

عمل یا حل

اس صورتحال میں سب سے اہم قدم چائلڈ کیئر اور مادری صحت سے متعلق آگاہی کو عام کرنا ہے۔ بچوں کے ماہر معالجین اور میڈیکل کمیونٹی کو سوشل میڈیا کے ذریعے ان روایتی غلط فہمیوں کی نفی کرنی چاہیے تاکہ پرانی نسل کو یہ سمجھایا جا سکے کہ ہر پرانی روایت طبی لحاظ سے درست نہیں ہوتی۔

خاندان کے اندر بھی یہ ماحول بنانا ضروری ہے کہ والدین کو اپنے بچے کی دیکھ بھال کا بنیادی حق دیا جائے۔ اس سلسلے میں شوہروں کا کردار سب سے اہم ہے کہ وہ اپنی بیوی اور نوزائیدہ بچے کی صحت کی حفاظت کے لیے غیر ضروری اور غیر سائنسی مداخلت کے سامنے مضبوطی سے کھڑے ہوں۔

کیا آپ کے خیال میں بزرگوں کے پرانے ٹوٹکے اور گھٹی دینے کی روایات آج بھی سائنس سے زیادہ اہم ہیں، یا نئی ماؤں کو ان کی مرضی کے مطابق بچہ پالنے کا حق ملنا چاہیے؟ اپنی رائے کمنٹس میں بتائیں۔