مکمل تفصیلات

اسلام آباد میں جمعہ کے روز ورلڈ بینک کے ریجنل پریکٹس ڈائریکٹر برائے Prosperity Vertical، Middle East, North Africa, Afghanistan and Pakistan (MENAAP) Sandeep Mahajan نے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پیغام یہ دیا گیا کہ پاکستان کو اب صرف معاشی استحکام تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ پائیدار ترقی کی طرف جانا چاہیے۔ زور سرمایہ کاری بڑھانے، نجی شعبے کی سرگرمی تیز کرنے اور ایسی فضا بنانے پر تھا جس سے معیشت میں حقیقی توسیع ہو سکے۔

ورلڈ بینک کے مطابق یہ اس کی دوسری ایسی توثیق ہے، کیونکہ اس سے پہلے بھی ادارہ پاکستان کے stabilization programme کی تعریف کر چکا ہے اور کہا تھا کہ اب growth کی طرف بڑھنا ضروری ہے تاکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ اسی تناظر میں IMF نے بھی اسلام آباد کو حالیہ tax reforms workshop میں اسی نوعیت کا مشورہ دیا تھا۔

اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2039362/wb-urges-pakistan-to-shift-from-stability-to-growth

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ملاقات میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

عوامی اثرات

یہ خبر اس لیے اہم ہے کہ پاکستان کی معیشت میں عام لوگوں کی جیب، نوکری، کاروبار اور مہنگائی سب ایک ہی زنجیر سے جڑے ہیں۔ اگر عالمی مالیاتی ادارے اب بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ ملک کو صرف سنبھالنے سے آگے بڑھ کر ترقی کی طرف جانا ہوگا، تو اس کا مطلب ہے کہ اصل امتحان اب شروع ہو رہا ہے۔

اس پیغام کا سیدھا اثر نوجوانوں پر پڑتا ہے، کیونکہ روزگار کے مواقع اسی وقت بڑھتے ہیں جب سرمایہ کاری آئے، کاروبار پھیلے اور نجی شعبہ حرکت میں ہو۔ بازار، صنعت، چھوٹے کاروبار اور نوکری کی تلاش میں مار کھانے والے طبقے کے لیے یہ بحث محض فائلوں کی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی ہے۔

عمل یا حل

اب اصل سوال یہ ہے کہ حکومت صرف بیانات تک محدود رہے گی یا واقعی سرمایہ کاروں کے لیے ایسا ماحول بنائے گی جس میں اعتماد بحال ہو، پالیسی واضح ہو اور کاروبار کو سانس لینے کی جگہ ملے۔ اگر نجی شعبہ متحرک نہیں ہوگا تو ترقی کے دعوے کاغذی ہی رہیں گے۔

پاکستان کے لیے اگلا قدم یہی ہے کہ stabilisation اور growth کے درمیان توازن بنایا جائے: ٹیکس نظام بہتر ہو، سرمایہ کاری کے راستے آسان ہوں، اور نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنے والی معیشت بنے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اب واقعی growth کی سیاست کرے گی، یا پھر معیشت ایک بار پھر صرف وقتی سنبھال پر چلتی رہے گی؟