مکمل تفصیلات

اس رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے اس سال ایران کے خلاف جو جنگی مہم چلائی، اس کا بنیادی دعویٰ یہ تھا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا جائے۔ مگر حقائق یہ بتائے گئے کہ ایران کا سول نیوکلیئر پروگرام IAEA کے حفاظتی نظام کے تحت تھا اور ایران نے 2015 میں ایٹمی معاہدہ بھی رضاکارانہ طور پر قبول کیا تھا۔

مزید بتایا گیا کہ سابق امریکی صدر Donald Trump نے 2018 میں امریکا کو اس معاہدے سے نکالا، اور اپنی دوسری مدتِ صدارت میں ایران کے خلاف “maximum pressure” پالیسی دوبارہ فعال کی۔ جب مذاکرات ابھی جاری تھے، اسرائیل نے جون 2025 میں ایران پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 12 روزہ جنگ شروع ہوئی۔

اس کے بعد 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے کیے۔ رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں ایرانی قیادت کا بڑا حصہ مارا گیا اور ایرانی تنصیبات و اداروں پر مسلسل 40 دن تک بمباری کی گئی۔ اس دوران ایران NPT میں بھی شامل رہا اور اس مؤقف پر قائم رہا کہ وہ ایٹمی بم نہیں بنا رہا، جس میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہدایت کو اہم قرار دیا گیا۔

اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2032959/war-in-the-gulf

عوامی اثرات

یہ معاملہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نہیں، بلکہ عالمی سیاست، ایٹمی معاہدوں اور طاقت کے استعمال پر بڑا سوال ہے۔ جب مذاکرات کے دوران حملہ ہو اور پھر کئی ہفتے تک بمباری جاری رہے تو اس کے اثرات صرف فوجی نہیں رہتے، خطے کی سکیورٹی، تیل، تجارت اور سفارتی توازن سب متاثر ہوتے ہیں۔

پاکستان سمیت خطے کے ممالک کے لیے یہ خبر اس لیے اہم ہے کہ ایران کی جنگی کشیدگی سرحدی سلامتی، مہاجرین کے دباؤ، اور پورے خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتی ہے۔ عوام یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ عالمی طاقتیں معاہدوں اور قانون کی پاسداری کے دعوے کرتی ہیں یا پھر اپنی مرضی کے مطابق فیصلے مسلط کرتی ہیں۔

عمل یا حل

اس رپورٹ کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ جنگی دباؤ سے مسئلہ حل نہیں ہوا، بلکہ ایٹمی تنازع مزید پیچیدہ ہو گیا۔ اگر واقعی مقصد پائیدار امن تھا تو سفارت کاری، نگرانی، اور معاہدوں کی بحالی کو ترجیح دینی چاہیے تھی، نہ کہ مذاکرات کے بیچ حملے۔

اب سوال یہ ہے کہ عالمی نظام میں معاہدوں کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے جب ایک فریق انہیں توڑ دے اور دوسرا فریق جنگی کارروائیوں سے جواب دے؟ کیا ایسے تنازعات کا حل مزید بمباری ہے یا پھر نئے، قابلِ اعتماد مذاکرات؟ یہی وہ بحث ہے جو اب صرف ایران کی نہیں، پوری دنیا کی ہے۔