مکمل تفصیلات

ترکی نے ہفتے کے روز باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ 15 سال سے کم عمر افراد سوشل میڈیا استعمال نہیں کر سکیں گے، اور یہ پابندی 1 نومبر سے نافذ ہوگی۔ یہ فیصلہ سرکاری ریاستی گزٹ میں شائع کیا گیا، جس سے واضح ہوا کہ حکومت نے اسے قانون کی شکل دے دی ہے۔ اس سے پہلے اپریل میں پارلیمان نے ایسا قانون منظور کیا تھا جس کا مقصد بچوں اور نوعمر افراد کو آن لائن پلیٹ فارمز کے ممکنہ نقصانات سے بچانا ہے۔

نئے ضابطے کے مطابق سوشل میڈیا فراہم کرنے والی کمپنیوں پر لازم ہوگا کہ وہ عمر کی تصدیق سمیت تمام ضروری تکنیکی اور انتظامی اقدامات کریں تاکہ کم عمر صارفین کے لیے تحفظات نافذ ہو سکیں۔ متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسا کوئی سروس فراہم نہیں کی جا سکتی جو بچوں میں لت پیدا کرے۔

اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2036147/turkiye-social-media-ban-for-under-15s-takes-effect-nov-1

یہ اقدام اس عالمی رجحان کا حصہ ہے جس میں حکومتیں بچوں کو ڈیجیٹل خطرات، اسکرین کی لت، نیند کی کمی، بُلنگ اور کھانے کی خرابیوں جیسے مسائل سے بچانے کے لیے سخت قوانین بنا رہی ہیں۔ خبر کے مطابق آسٹریلیا پہلے ہی ایسی پابندیاں لا چکا ہے، جبکہ برطانیہ اور فرانس بھی اسی سمت بڑھ رہے ہیں۔ دوسری طرف حقوقِ انسانی کے حلقوں نے ترکی میں آزادیِ اظہار پر پابندیوں کے بارے میں خدشات ظاہر کیے ہیں، خاص طور پر LGBT سے متعلق معاملات پر۔

عوامی اثرات

یہ فیصلہ براہِ راست ان خاندانوں کو متاثر کرے گا جن کے بچے روزانہ سوشل میڈیا پر وقت گزارتے ہیں۔ ایک طرف حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس سے کم عمر بچوں کو اسکرین کی لت، ذہنی دباؤ، آن لائن بُلنگ اور نیند کی خرابی جیسے نقصانات سے بچایا جا سکے گا، مگر دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ عمر کی تصدیق عملی طور پر کتنی مؤثر اور قابلِ عمل ہوگی۔

پاکستانی ناظرین کے لیے یہ خبر اس لیے اہم ہے کہ ہمارے ہاں بھی کم عمر بچوں کا موبائل اور سوشل میڈیا استعمال ایک بڑا سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔ اگر ترکی جیسے ملک سخت قانون لا رہے ہیں تو یہ بحث یہاں بھی تیز ہو سکتی ہے کہ بچوں کی حفاظت کہاں تک، اور ڈیجیٹل آزادی کہاں سے شروع ہوتی ہے۔

عمل یا حل

اب اصل امتحان قانون بنانے کا نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد کا ہے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو عمر کی تصدیق کے قابلِ اعتماد نظام بنانا ہوں گے، ورنہ پابندی کاغذوں تک محدود رہ جائے گی۔ والدین کے لیے بھی یہ پیغام ہے کہ بچوں کے آن لائن وقت، ایپس اور مواد پر نظر رکھنا پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

یہ خبر ایک بڑی بحث چھیڑتی ہے: کیا بچوں کو بچانے کے لیے ایسی پابندیاں ضروری ہیں، یا اس سے آزادیِ اظہار اور ڈیجیٹل رسائی متاثر ہوگی؟ کیا پاکستان سمیت دوسرے ممالک بھی اسی طرز کے قوانین کی طرف جائیں گے؟