مکمل تفصیلات

خیبر کے علاقے باڑہ میں وادیِ تیرہ سے بے گھر ہونے والے خاندانوں نے اپنی متوقع واپسی کے منصوبے پر عدم اعتماد ظاہر کیا ہے۔ Dawn کی رپورٹ کے مطابق واپسی کا آغاز 10 اکتوبر سے ہونا بتایا جا رہا ہے، لیکن متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ اب تک نہ خیبر پختونخوا حکومت اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کوئی باقاعدہ نوٹیفکیشن سامنے آیا ہے۔

متاثرہ خاندانوں نے یہ بھی کہا کہ زمین پر ابھی تک کوئی عملی تیاری نظر نہیں آ رہی۔ ان کے مطابق نہ رجسٹریشن کا کوئی مرکز قائم کیا گیا ہے، نہ نقل و حمل کے انتظامات دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ 50 خاندان روزانہ واپس بھیجنے کا منصوبہ صرف زبانی اعلان لگتا ہے۔ ایک بے گھر شخص کے مطابق اس وقت تک تقریباً 27 ہزار خاندان مختلف علاقوں سے بے گھر ہو کر رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، اس رفتار سے واپسی مکمل ہونے میں تقریباً ڈیڑھ سال لگے گا۔

اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2033605/tirah-idps-sceptical-about-return-plan
تاریخِ اشاعت: 2026-09-30، 15:09 PKT
مقام: باڑہ، خیبر؛ متاثرہ علاقہ: وادیِ تیرہ

یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ بے گھر خاندانوں کے لیے واپسی صرف ایک اعلان نہیں بلکہ رہائش، سکیورٹی، نقل و حمل اور دوبارہ آبادکاری کا سوال ہے۔ جب تک واضح نوٹیفکیشن، رجسٹریشن اور عملی انتظامات سامنے نہیں آتے، متاثرہ لوگوں کا اعتماد بحال ہونا مشکل رہے گا۔

عوامی اثرات

وادیِ تیرہ کے بے گھر خاندانوں کے لیے یہ خبر محض ایک انتظامی اعلان نہیں، بلکہ ان کی روزمرہ زندگی، بچوں کی تعلیم، روزگار اور گھروں کی واپسی سے جڑی ہوئی ہے۔ جب ہزاروں خاندان برسوں سے نقل مکانی کی حالت میں ہوں، تو واپسی کا ہر وعدہ ان کے لیے امید بھی ہوتا ہے اور خدشہ بھی۔ اگر منصوبہ صرف کاغذی رہے تو سب سے زیادہ نقصان انہی لوگوں کو ہوگا جو پہلے ہی بے گھر ہونے کی قیمت ادا کر چکے ہیں۔

خیبر اور پورے پاکستان کے لیے یہ سوال اہم ہے کہ کیا متاثرہ شہریوں کو واضح روڈ میپ، رجسٹریشن، ٹرانسپورٹ اور سکیورٹی کے بغیر واپس بھیجا جا سکتا ہے؟ ایسے فیصلے اعتماد، شفافیت اور زمینی تیاری کے بغیر مزید بے چینی پیدا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تیرہ کے آئی ڈی پیز اس وقت سرکاری دعووں سے زیادہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔

عمل یا حل

اس صورتحال میں پہلا قدم صاف اور تحریری حکومتی نوٹیفکیشن ہے، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو معلوم ہو کہ واپسی کب، کیسے اور کس فیز میں ہوگی۔ اس کے بعد رجسٹریشن مراکز، ٹرانسپورٹ، اور واپسی کے راستوں پر سکیورٹی اور رہائش کے انتظامات فوری طور پر عوام کے سامنے لائے جائیں۔ اگر 50 خاندان روزانہ واپس بھیجنے کا منصوبہ واقعی موجود ہے تو اس کی تفصیل، ترجیحات اور عمل درآمد کا شیڈول شفاف ہونا چاہیے۔

دوسرا ضروری نکتہ یہ ہے کہ واپسی صرف نقل مکانی نہ ہو، بلکہ باعزت آبادکاری بھی ہو۔ متاثرہ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے گھروں، زمینوں اور بنیادی سہولتوں کا کیا ہوگا۔ سوال یہ ہے: کیا حکومت واقعی واپسی کے لیے تیار ہے، یا تیرہ کے بے گھر خاندان ایک اور وعدے کے منتظر رہیں گے؟