مکمل تفصیلات

چارسدہ میں ہفتے کے روز خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے واضح طور پر کہا کہ وہ صوبے میں کسی بھی فوجی آپریشن کے حق میں نہیں ہیں۔ یہ بیان انہوں نے فاروقِ اعظم چوک میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کے دوران دیا، جو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا حصہ تھا۔ یہ لانگ مارچ 4 اکتوبر 2026 کو شروع ہوا تھا اور رپورٹ کے مطابق اس کے روٹ پلان میں آغاز کے بعد کئی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔

ابتدا میں پی ٹی آئی نے اعلان کیا تھا کہ قافلہ اسلام آباد کی طرف بڑھے گا، لیکن اب تک منزل غیر یقینی ہے۔ وزیراعلیٰ نے 11 اکتوبر کے بعد، یعنی سوات/صوابی کے بعد کے سفر کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی اعلان نہیں کیا۔ اب تک مارچ خیبر پختونخوا کی حدود میں ہی رہا ہے، جہاں پی ٹی آئی حکومت میں ہے۔ اس مہم کا مقصد پارٹی کے بانی اور جیل میں قید عمران خان کی رہائی ہے۔

سہیل آفریدی نے خطاب میں یہ بھی کہا کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور دباؤ یا دھمکی سے مسلط کیے گئے فیصلے قبول نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق انہیں دستخط کرنے کو کہا گیا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2036185/afridi-maintains-his-stance-on-counterterrorism-policy-as-pti-long-march-marks-a-week

عوامی اثرات

یہ معاملہ صرف ایک سیاسی مارچ تک محدود نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی پالیسی، ریاستی اختیار اور عوامی اعتماد کی بڑی بحث بن چکا ہے۔ جب ایک صوبے کا وزیراعلیٰ کھل کر فوجی کارروائی کے خلاف موقف دیتا ہے تو اس کے اثرات انتظامی فیصلوں، امن و امان کی حکمتِ عملی اور مرکز و صوبہ تعلقات پر بھی پڑتے ہیں۔

دوسری طرف پی ٹی آئی کے حامیوں کے لیے یہ مارچ عمران خان کی رہائی کی سیاسی مہم ہے، اس لیے اس کی سمت اور اگلا لائحۂ عمل کارکنوں، ووٹروں اور مخالف سیاسی حلقوں سب کے لیے اہم ہو گیا ہے۔ چونکہ مارچ ابھی تک صوبے کے اندر ہی ہے، اس لیے خیبر پختونخوا کے شہری براہِ راست اس سیاسی سرگرمی، سڑکوں کی نقل و حرکت اور عوامی اجتماع کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔

عمل یا حل

اب سوال یہ ہے کہ لانگ مارچ آگے کہاں جائے گا اور پارٹی 11 اکتوبر کے بعد کیا حکمتِ عملی اپنائے گی۔ اگر قافلہ اسلام آباد کی سمت بڑھتا ہے تو سیاسی کشیدگی مزید بڑھے گی، اور اگر راستہ بدلا گیا تو یہ پی ٹی آئی کے اندرونی فیصلوں پر نئی بحث چھیڑ سکتا ہے۔ سہیل آفریدی کے حالیہ مؤقف نے واضح کر دیا ہے کہ وہ دباؤ میں آکر اپنی پوزیشن تبدیل کرنے کو تیار نہیں۔

عوام کے لیے اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ سکیورٹی پالیسی پر کھلی، ذمہ دارانہ اور شفاف بحث ہو، تاکہ فیصلے صرف سیاسی دباؤ کے بجائے زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔ کیا خیبر پختونخوا میں طاقت کے استعمال سے مسائل حل ہوں گے یا سیاسی مکالمہ اور واضح حکمتِ عملی ہی آگے کا راستہ ہے؟ یہی وہ سوال ہے جس پر اب پورا صوبہ اور ملک نگاہ رکھے ہوئے ہے۔