مکمل تفصیلات
وزیراعظم شہباز شریف اتوار کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت/خطاب کر رہے تھے، اور یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب مرکز اور پی ٹی آئی کی قیادت والی اپوزیشن کے درمیان سیاسی تناؤ شدید ہے۔ اجلاس کے آغاز میں وزیراعظم نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ حال ہی میں طے پانے والے اسٹاف لیول معاہدے کا ذکر کیا۔
ڈان کے مطابق اصل تنازع صرف سیاسی نہیں بلکہ حکومتی اختیارات اور قومی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔ وفاق اور پی ٹی آئی حکومت والے خیبرپختونخوا کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پر اختلافات چل رہے ہیں، اور وفاقی حکومت اس تناظر میں کے پی میں گورنر راج کے امکان پر بھی غور کر رہی ہے۔ 4 اکتوبر کو پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت کی بار بار وارننگ کے باوجود احتجاجی مارچ بھی کیا۔
ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ہفتہ کے روز حکمران اتحاد کی دو بڑی جماعتوں، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی، کے سینیئر رہنماؤں نے کے پی کو آئینی شقوں کے تحت وفاقی کنٹرول میں لانے کا منصوبہ حتمی شکل دی۔ اس منصوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے آئینی طریقہ کار کو استعمال کرنے کی بات شامل ہے۔ شہباز شریف نے اسی پلان پر بات چیت کے لیے اتوار کا اجلاس بلایا۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2036352/pm-shehbaz-addresses-a-meeting-of-federal-cabinet
تاریخِ اشاعت: 11 اکتوبر 2026، 16:53 PKT
ماخذ: مطابق Dawn - Home
عوامی اثرات
یہ خبر عام پاکستانیوں کے لیے اس لیے اہم ہے کہ اس میں صرف ایک اجلاس نہیں بلکہ وفاق، صوبے اور اپوزیشن کے درمیان طاقت کی کھینچا تانی سامنے آ رہی ہے۔ اگر خیبرپختونخوا کے معاملے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی طرف کوئی قدم بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صوبے کی انتظامی صورتحال، امن و امان، سیاسی سرگرمیوں اور روزمرہ سرکاری فیصلوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
اس تناؤ کا اثر معیشت پر بھی پڑتا ہے، کیونکہ IMF کے ساتھ معاہدہ، سیاسی استحکام اور حکومتی اعتماد ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ جب مرکز اور بڑی سیاسی قوتیں آمنے سامنے ہوں تو عام شہری کو مہنگائی، پالیسی عدم یقینی اور ادارہ جاتی کشمکش کی صورت میں اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ اسی لیے یہ معاملہ صرف پارٹی سیاست نہیں بلکہ قومی سطح کا سوال بن جاتا ہے۔
عمل یا حل
اب نگاہیں اس بات پر ہیں کہ وفاقی کابینہ اور حکمران اتحاد اس منصوبے پر آگے کیا فیصلہ کرتا ہے: کیا واقعی آئینی راستے سے کے پی میں وفاقی کنٹرول کی طرف قدم بڑھایا جائے گا، یا سیاسی مذاکرات کے ذریعے معاملہ سلجھانے کی کوشش ہوگی؟ موجودہ صورتحال میں اصل سوال یہی ہے کہ کیا طاقت کے استعمال سے تناؤ کم ہوگا یا مزید بڑھے گا۔
عوام کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ آئینی، سیاسی اور پارلیمانی طریقہ کار کو شفاف رکھا جائے تاکہ کسی بھی فیصلے کے قانونی جواز پر سوال نہ اٹھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مرکز سختی کی طرف جاتا ہے یا بات چیت کو ترجیح دیتا ہے۔ آپ کے خیال میں ایسے نازک وقت میں ملک کو سخت فیصلے چاہئیں یا سیاسی مفاہمت؟