مکمل تفصیلات
سندھ ہائی کورٹ نے پیر کے روز صوبائی حکومت کی وہ اپیل مسترد کر دی جو مہرنگ بلوچ کی بریت کے خلاف دائر کی گئی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ اپیل قابلِ سماعت نہیں۔ یہ اپیل صوبائی حکومت کی جانب سے پروسیکیوٹر جنرل کے ذریعے دائر ہوئی تھی، جب کہ مہرنگ بلوچ کی نمائندگی وکیل جبران ناصر نے کی اور انہوں نے عدالت میں دلائل دیے۔
مہرنگ بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی رہنما ہیں۔ ان کے خلاف ملیر ضلع کے قائدآباد تھانے میں 11 اکتوبر 2024 کو دہشت گردی اور بغاوت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق ان پر الزام تھا کہ انہوں نے سیکیورٹی اداروں کے خلاف الزامات لگا کر لوگوں کو اکسانے کی کوشش کی۔ بعد ازاں کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) نے انہیں بری کر دیا۔ اسی بریت کو ریاست نے دسمبر 2025 میں سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
تاریخ: پیر، 2026-10-19 کی رپورٹ کے مطابق سماعت ہوئی۔
عدالت: سندھ ہائی کورٹ، دو رکنی بینچ جسٹس شمس الدین عباسی کی سربراہی میں اور جسٹس میران محمد شاہ شامل تھے۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2038289/shc-dismisses-state-appeal-against-mahrangs-2025-acquittal-in-sedition-case
عوامی اثرات
یہ فیصلہ محض ایک فرد یا ایک کیس کی خبر نہیں، بلکہ اس کا اثر سیاسی مقدمات، اظہارِ رائے، اور ریاستی اداروں پر تنقید کے گرد جاری قومی بحث پر پڑتا ہے۔ مہرنگ بلوچ کا نام پہلے ہی بلوچستان کی سیاست، احتجاجی سیاست اور ریاستی ردعمل کے مباحث میں نمایاں رہا ہے، اس لیے ان کے مقدمے کا ہر عدالتی موڑ عوامی توجہ کھینچتا ہے۔
پاکستان میں ایسے مقدمات عام شہریوں کے لیے بھی اہم ہوتے ہیں کیونکہ ان سے یہ سوال بار بار اٹھتا ہے کہ کہاں تنقید ختم ہوتی ہے اور کہاں قانونی کارروائی شروع ہو جاتی ہے۔ جب ایک ہائی پروفائل سیاسی یا سماجی رہنما کے خلاف مقدمہ بنتا ہے، تو اس کے اثرات صرف عدالت تک محدود نہیں رہتے بلکہ سیاسی ماحول، احتجاجی فضا اور عوامی اعتماد پر بھی پڑتے ہیں۔
عمل یا حل
اب اس فیصلے کے بعد قانونی طور پر ریاستی اپیل ختم ہو گئی ہے، کیونکہ عدالت نے اسے ناقابلِ سماعت قرار دیا ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اگر کوئی فریق کسی بریت کو چیلنج کرنا چاہے تو اسے قانونی تقاضوں اور دائرۂ اختیار کے مضبوط معیار پر پورا اترنا ہوتا ہے۔
یہ معاملہ ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کرتا ہے کہ حساس سیاسی کیسز میں ثبوت، ایف آئی آر کے متن، اور استغاثہ کے دلائل کس حد تک عدالت میں برقرار رہتے ہیں۔ عوام کے لیے اصل سوال یہی ہے: کیا عدالتوں کے فیصلے سیاسی دباؤ سے آزاد ہوتے ہیں یا ایسے مقدمات ہمیشہ ایک بڑے قومی تنازعے میں بدل جاتے ہیں؟