مکمل تفصیلات
اسلام آباد میں سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس پیر کے روز ہوا، جس کی صدارت سینیٹر زمیر حسین گھمرو نے کی۔ اجلاس میں پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں یعنی ڈسکوز کی نجکاری کے جاری عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے پرائیویٹائزیشن کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ یہ معاملہ فوری طور پر کونسل آف کامن انٹرسٹس (CCI) کے سامنے رکھے، اور خبردار کیا کہ اگر نجکاری کے عمل کو زبردستی آگے بڑھایا گیا تو استحقاقی تحریک لائی جا سکتی ہے۔
کمیٹی کو پرائیویٹائزیشن کمیشن کی جانب سے دیا گیا جواب تسلی بخش نہیں لگا، کیونکہ کمیشن نے مبینہ طور پر سی سی آئی کی نئی منظوری کے بغیر نجکاری جاری رکھنے کا مؤقف اپنایا تھا۔ کمیٹی کے مطابق ڈسکوز کے بعض کام صوبائی نوعیت کے ہیں، اس لیے یا تو صوبائی اسمبلیوں کی منظوری لے کر انہیں قانونی بنایا جائے یا پھر یہ ادارے صوبوں کے حوالے کیے جائیں۔
کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ صوبوں سے متعلق معاملات لازماً سی سی آئی میں لے جائے جائیں اور نجکاری کا پورا عمل شفاف ہونا چاہیے۔ اجلاس میں اس خدشے کی بھی نشاندہی کی گئی کہ اس نوعیت کی نجکاری پہلے بھی پاکستان اسٹیل ملز اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) کے معاملات میں سوالات کھڑے کر چکی ہے۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2033304/senate-panel-seeks-halt-to-discos-privatisation-says-matter-must-go-to-council-of-common-interests
عوامی اثرات
ڈسکوز کی نجکاری کا معاملہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ بجلی کے نظام، صوبائی اختیارات اور عوامی مفاد سے جڑا ہوا تنازع بن چکا ہے۔ اگر یہ عمل آگے بڑھتا ہے تو اس کا اثر بجلی صارفین، صوبائی حکومتوں، ملازمین اور پورے پاور سیکٹر کی سمت پر پڑ سکتا ہے۔ عام لوگوں کے لیے اصل سوال یہی ہے کہ کیا اس سے لوڈشیڈنگ، بلنگ، سروس اور جوابدہی میں بہتری آئے گی یا پھر ایک اور بڑا قومی اثاثہ تنازع میں پھنس جائے گا۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان میں نجکاری کے فیصلے اکثر اعتماد کے بحران سے گزرتے ہیں۔ جب پارلیمانی کمیٹی خود شفافیت، آئینی دائرہ اختیار اور صوبائی مشاورت کا سوال اٹھا رہی ہو تو عوامی توجہ لازمی ہو جاتی ہے۔ توانائی کا شعبہ پہلے ہی مہنگی بجلی، کمزور انتظام اور سیاسی کشمکش کے باعث دباؤ میں ہے، اس لیے ہر ایسا فیصلہ براہِ راست گھریلو زندگی پر اثر ڈالتا ہے۔
عمل یا حل
اب اگلا مرحلہ یہ ہے کہ پرائیویٹائزیشن کمیشن اس معاملے کو سی سی آئی کے سامنے رکھے اور واضح کرے کہ نجکاری کس آئینی اور انتظامی بنیاد پر آگے بڑھائی جا رہی ہے۔ اگر واقعی ڈسکوز کے اختیارات صوبائی نوعیت کے ہیں تو پھر صوبائی اسمبلیوں کی منظوری یا اداروں کی منتقلی جیسے آپشنز پر کھل کر بات ہونی چاہیے۔ ورنہ یہ تنازع مزید بڑھے گا اور اداروں کے درمیان ٹکراؤ عوامی مفاد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت نجکاری کے ہر مرحلے کو شفاف، دستاویزی اور پارلیمانی نگرانی کے ساتھ آگے بڑھائے۔ پاکستان میں سوال یہی ہے: کیا توانائی اصلاحات واقعی عوام کو ریلیف دیں گی، یا پھر ایک اور بڑا فیصلہ اعتماد کی کمی کی نذر ہو جائے گا؟