مکمل تفصیلات

اسلام آباد میں بدھ کے روز سینیٹ کی قواعد و ضوابط اور مراعات کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس کی صدارت سینیٹر سید وقار مہدی نے کی۔ اجلاس میں سینیٹرز جان محمد، دوست علی جسر، سعدیہ عباسی، پلوشہ محمد زئی خان، بشریٰ انجم بٹ اور سمیعہ ممتاز زہری کے ساتھ سینئر حکام بھی موجود تھے۔

کمیٹی نے سینیٹر سمیعہ ممتاز زہری کی جانب سے جمع کرائی گئی استحقاق کی تحریک پر غور کیا، جس میں کراچی ایئرپورٹ پر پارلیمنٹیرینز اور عام مسافروں کی اسکریننگ کے دوران ایئرپورٹس سیکیورٹی فورس (ASF) اہلکاروں کے مبینہ نامناسب رویے پر اعتراض اٹھایا گیا تھا۔ کمیٹی نے اس معاملے پر گزشتہ ماہ طلب کی گئی انکوائری رپورٹ اور اس کے جواب کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ متعلقہ اہلکار کو اس کے سابق عہدے سے منتقل کر دیا گیا ہے۔

کمیٹی نے معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ہدایت کی کہ متعلقہ افسر کو اگلے اجلاس میں طلب کیا جائے تاکہ پوری صورتِ حال واضح کی جا سکے۔

اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2038793/senate-body-summons-asf-official-over-alleged-mistreatment-of-passengers-at-airports

عوامی اثرات

یہ معاملہ صرف ایک ایئرپورٹ کے رویے تک محدود نہیں رہتا، کیونکہ جب سیکیورٹی چیکنگ کے دوران پارلیمنٹیرینز اور عام مسافروں کو مبینہ بدسلوکی کا سامنا ہو تو سوال پورے نظامِ نگرانی اور جوابدہی پر اٹھتا ہے۔ کراچی جیسے بڑے ایئرپورٹ پر ایسا تاثر عوام کے اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔

مسافروں کے لیے ایئرپورٹ وہ جگہ ہے جہاں سیکیورٹی بھی ضروری ہوتی ہے اور عزتِ نفس بھی۔ اگر منتخب نمائندے اس طرح کے واقعے پر آواز اٹھا رہے ہیں تو عام شہری خود کو زیادہ غیر محفوظ اور بے بس محسوس کر سکتے ہیں۔ اسی لیے یہ معاملہ صرف ایک شکایت نہیں بلکہ ادارہ جاتی رویے کا امتحان بھی ہے۔

عمل یا حل

اب اگلا مرحلہ یہی ہے کہ سینیٹ کمیٹی میں متعلقہ اے ایس ایف افسر کو طلب کیا جائے اور انکوائری رپورٹ، جواب اور زمینی حقائق ایک ہی جگہ پر رکھ کر جانچ کی جائے۔ اگر کوئی کوتاہی ثابت ہو تو واضح جوابدہی ہونی چاہیے، اور اگر الزام غلط ہو تو بھی حقیقت عوام کے سامنے آنی چاہیے۔

ایئرپورٹس پر سیکیورٹی اور شہریوں کے احترام کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ادارے مسافر کی عزت کے ساتھ سیکیورٹی دے سکتے ہیں، یا ہر شکایت کے بعد یہی کہا جائے گا کہ اہلکار کو کہیں اور منتقل کر دیا گیا؟