مکمل تفصیلات

اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2036923/saudi-led-coalition-strikes-oil-site-in-yemens-capital

یمن کے حوثیوں نے منگل کے روز دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد نے دارالحکومت صنعا میں ایک تیل کی تنصیب پر حملہ کیا۔ یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا جب ریاض کی قیادت والے اتحاد نے شہریوں کو علاقے سے نکلنے کا کہا، اور یہ جنگ دوبارہ بھڑکنے کے بعد صنعا کے لیے جاری ہونے والا پہلا انخلا حکم تھا۔

اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ فوجی کارروائیاں حوثیوں کے جنگی استعمال میں آنے والے ’اہم اثاثوں‘ کے خلاف کی گئیں۔ ان کے مطابق نشانہ بننے والی جگہوں میں صنعا کا الصباحا مرکزی اسٹیشن، زیرِ زمین ایندھن کے ذخائر، فیول ٹینکس، اور حدیدہ، صنعا اور ذمار میں واقع توانائی ٹرمینلز شامل تھے۔

اس سے پہلے اتحاد کے ترجمان نے کہا تھا کہ صنعا کے مغربی مضافات میں واقع یمن پٹرولیم کمپنی کی ایک تیل تنصیب کو حملے سے پہلے خالی کر دیا جائے۔ اے ایف پی کے نمائندے نے صنعا میں دھماکے کی آواز سنی، جبکہ حوثیوں کے زیرِ اثر المسیرہ ٹی وی نے فوری بریکنگ اپ ڈیٹ میں بتایا کہ ’سعودی جارحیت‘ نے الصباحا میں تیل کمپنی کو نشانہ بنایا۔

اس خبر میں ہلاکتوں، زخمیوں یا نقصان کی مکمل تعداد فوری طور پر نہیں دی گئی۔

عوامی اثرات

یہ واقعہ یمن کی جنگ کے ایک اور خطرناک مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے، کیونکہ دارالحکومت صنعا میں تیل اور ایندھن کے مراکز پر حملوں کا سیدھا اثر عام لوگوں کی روزمرہ زندگی پر پڑتا ہے۔ ایندھن کی فراہمی، نقل و حمل، بجلی اور بنیادی اشیا کی قیمتیں ایسے حملوں کے بعد مزید دباؤ میں آ سکتی ہیں۔

پاکستان سمیت خطے کے ناظرین کے لیے یہ خبر اس لیے اہم ہے کہ خلیج اور بحیرہ احمر کے اطراف کشیدگی بڑھنے سے پورے خطے کی سکیورٹی، تجارت اور توانائی کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔ جب بڑے فوجی اتحاد اور مسلح گروہ ایک دوسرے کے خلاف اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہیں تو سب سے پہلا بوجھ شہری آبادی اٹھاتی ہے۔

عمل یا حل

اس صورتحال میں فوری سوال یہ ہے کہ کیا حملوں اور جوابی کارروائیوں سے کوئی سیاسی حل مزید دور ہوتا جا رہا ہے؟ شہریوں کو پہلے ہی انخلا کی ہدایت دے دی گئی تھی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زمینی سطح پر خطرہ کتنا سنگین سمجھا جا رہا تھا۔ اب اصل ضرورت یہ ہے کہ فریقین کشیدگی کم کرنے کے لیے واضح سفارتی راستہ اپنائیں، تاکہ تیل، بجلی اور شہری تنصیبات جنگی ہدف نہ بنتی رہیں۔

اگر لڑائی اسی طرح بڑھی تو اس کا نقصان صرف یمن تک محدود نہیں رہے گا۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا عالمی طاقتیں اور علاقائی ثالث اب بھی محض بیانات تک محدود رہیں گے، یا کوئی مؤثر جنگ بندی/مذاکراتی دباؤ سامنے آئے گا؟ آپ کے خیال میں شہری تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے سخت سفارت کاری ضروری ہے یا طاقت کی زبان ہی اصل جواب بن چکی ہے؟