عوامی اثرات

سعودی عرب اور پاکستان کا رشتہ محض سفارتی یا معاشی نہیں بلکہ حرمین شریفین سے لگاؤ کے باعث پاکستانی عوام کے جذبات سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے ڈرون اور میزائل حملے ہر پاکستانی کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں۔ جب پاکستان اور سعودی عرب کے مابین مکہ دفاعی معاہدے جیسے اہم اقدامات پر پیشرفت میں تاخیر کی خبر سامنے آتی ہے تو عوام اور دفاعی تجزیہ کاروں میں ایک نادیدہ بیچینی پھیل جاتی ہے۔ یہ معاملہ ملک کے اندر ایک نئی سفارتی اور دفاعی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

اس صورتحال کے تاثرات بیرون ملک مقیم لاکھوں پاکستانی محنت کشوں پر بھی پڑتے ہیں جو سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ سعودی عرب کی سلامتی اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کے درمیان باریک توازن برقرار رکھنا اسلام آباد کے لیے ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے۔ عوام کا ایک بڑا طبقہ حرمین شریفین کے تحفظ اور سعودی سلامتی کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کا حامی ہے، جبکہ دوسرا فریق پاکستان کو مشرق وسطیٰ کی عسکری کشمکش سے محفوظ رکھنے کا مشورہ دیتا ہے۔ یہی کشمکش اس خبر کو پاکستان کے اندر شدید ترین عوامی دلچسپی اور مذہبی جذبات کا مرکز بناتی ہے۔

عمل یا حل

پاکستانی حکومت اور دفتر خارجہ کو چاہیے کہ وہ اس دفاعی معاہدے پر شفافیت کے ساتھ عوام اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں۔ سعودی عرب کے تحفظ اور خطے میں امن کے قیام کے لیے محض وقت مانگنے کے بجائے ایک واضح اور جاندار حکمت عملی سامنے لائی جائے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ اپنی پائیدار شراکت داری برقرار رکھتے ہوئے اپنی سفارتی صلاحیتوں کے ذریعے حوثی حملوں کے خلاف ایک مؤثر موقف اپنانا ہوگا تاکہ پاکستان کی دفاعی ساکھ پر اثر نہ پڑے۔

میڈیا اور عوام کو بھی اس باریک سفارتی معاملے کو جذباتیت کے بجائے حقیقت پسندی کے ساتھ دیکھنا ہوگا۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلامی ممالک کے مابین باہمی اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔ کیا پاکستان کو سعودی عرب کی سیکیورٹی کے لیے مکہ دفاعی معاہدے پر فوری اور عملی قدم اٹھانا چاہیے یا پھر اپنے داخلی و سفارتی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے محتاط انداز اپنانا چاہیے؟ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟