مکمل تفصیلات
جمعہ کو ریاض میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے فوجی سربراہوں کی تیز رفتار اور ہنگامی نوعیت کی ملاقات ہوئی۔ اس کے فوراً بعد چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے الگ ملاقات کی۔ یہ دونوں ملاقاتیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ 7 اگست کو مکہ میں طے پانے والا مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ اب محض سیاسی اعلان نہیں رہا بلکہ اس پر عملی فوجی بندوبست کی سمت کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
اصل خبر کے مطابق ان ملاقاتوں کے بعد جاری ہونے والے بیانات میں ایسا کچھ نہیں تھا جس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکے کہ یمن کی انصار اللہ، جنہیں عام طور پر حوثی کہا جاتا ہے، کے خلاف مشترکہ حملہ یا زمینی کارروائی شروع ہونے والی ہے۔ البتہ یہ ضرور ظاہر ہوا کہ معاہدے کی collective defence یعنی اجتماعی دفاع کی شق کو عملی شکل دینے کے لیے عسکری سطح پر رابطے بڑھائے جا رہے ہیں۔
تاریخ: جمعہ، 26 ستمبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2032831/what-comes-after-riyadh-meeting-between-the-pakistani-saudi-and-turkish-military-chiefs
عوامی اثرات
اس خبر کی اہمیت صرف ایک سفارتی ملاقات تک محدود نہیں رہتی، کیونکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ جیسے ممالک کے فوجی سربراہوں کا ایک جگہ جمع ہونا خطے کی سکیورٹی سیاست میں بڑے فیصلوں کی تیاری کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایسے اشارے عام پاکستانی کے لیے بھی اہم ہیں، کیونکہ خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کا اثر براہِ راست تیل، معاشی دباؤ، سفارتی صف بندی اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کی صورتحال پر پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف یہ بھی واضح ہے کہ ابھی تک کوئی ایسا اعلان نہیں آیا جو فوری جنگ یا زمینی کارروائی کی طرف لے جائے۔ اسی لیے عوام کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ معاہدہ واقعی دفاعی تعاون تک محدود رہے گا یا آگے چل کر خطے کی طاقتوں کے توازن کو مزید بدل دے گا۔ پاکستانی ناظرین اس لیے بھی اسے غور سے دیکھ رہے ہیں کہ اس میں پاکستان کا کردار محض علامتی ہے یا عملی سطح پر بھی بڑھ رہا ہے۔
عمل یا حل
ابھی فوری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کو کاغذ سے نظام تک لے جانے کی کوشش شروع ہو چکی ہے۔ اگلے مرحلے میں اصل توجہ اس بات پر ہوگی کہ تینوں ممالک کے درمیان عسکری رابطہ، کمانڈ اسٹرکچر، مشقوں اور دفاعی ہم آہنگی کی کیا شکل بنتی ہے۔ اگر یہ عمل آگے بڑھتا ہے تو یہ خطے میں مشترکہ سلامتی کے نئے فارمولے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
لیکن چونکہ جاری بیانات میں حوثیوں کے خلاف حملے یا زمینی کارروائی کا کوئی عندیہ نہیں دیا گیا، اس لیے فوری طور پر جنگی مفروضے بنانا درست نہیں ہوگا۔ اصل بحث یہ ہے کہ پاکستان اس نئے دفاعی بندوبست میں کس حد تک شامل ہوگا اور کیا یہ صرف سیاسی یقین دہانی رہے گی یا عملی عسکری تعاون میں ڈھلے گی؟ آپ کے خیال میں یہ اتحاد خطے میں امن لائے گا یا نئی صف بندیاں پیدا کرے گا؟