مکمل تفصیلات

راولپنڈی میں ڈویژنل انتظامیہ نے یوٹیلیٹی سروسز کے تمام متعلقہ محکموں کو خبردار کیا ہے کہ اب کوئی بھی ادارہ روڈ کٹنگ کی باضابطہ اجازت اور نو آبجیکشن سرٹیفیکیٹ (NOC) کے بغیر ترقیاتی یا تنصیب کا کام شروع نہیں کرے گا۔ یہ ہدایت کمشنر راولپنڈی سلمان غنی نے جمعرات کو ایک اجلاس میں جاری کی، جس میں سڑک کاٹنے کی اجازتوں، زیرزمین یوٹیلیٹی لائنوں کی تنصیب، اور مختلف سرکاری اداروں کے درمیان ان کے انتظام پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں واضح کیا گیا کہ شہری علاقوں میں بار بار سڑکیں کھودنے سے نہ صرف عوام کو روزمرہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے اور سرکاری وسائل کا غیر ضروری ضیاع ہوتا ہے۔ کمشنر نے تمام متعلقہ محکموں، تنظیموں اور سروس فراہم کرنے والوں کو ہدایت دی کہ وہ کسی بھی قسم کی کھدائی — چاہے وہ تنصیب، منتقلی یا مرمت کے لیے ہو — سے پہلے جامع منصوبہ بندی کریں اور باہمی رابطہ بہتر بنائیں۔

اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2039073/utilities-in-rawalpindi-barred-from-digging-up-roads-without-permission
تاریخ: جمعرات، رپورٹ/اشاعت: 2026-10-23 14:25 PKT
مقام: راولپنڈی

عوامی اثرات

یہ فیصلہ راولپنڈی کے شہریوں کے لیے براہِ راست اہم ہے کیونکہ سڑکیں بار بار کھودنے کا مطلب صرف ٹریفک بندش نہیں، بلکہ روزانہ دفاتر، اسکولوں، اسپتالوں اور بازاروں تک پہنچنے میں مزید وقت اور خرچ بھی ہے۔ جب ایک ہی روڈ پر مختلف محکمے الگ الگ وقت پر کھدائی کرتے ہیں تو مرمت کا کام بھی بار بار متاثر ہوتا ہے اور شہریوں کو دوبارہ وہی اذیت جھیلنی پڑتی ہے۔

اس حکم سے یہ پیغام بھی گیا ہے کہ شہر میں اب بغیر منصوبہ بندی کے کام کرنے کا دور ختم ہونا چاہیے۔ اگر واقعی ادارے ایک دوسرے سے پہلے رابطہ کریں اور اجازت کے بغیر کھدائی نہ کریں تو عوامی سہولت بہتر ہو سکتی ہے، سڑکوں کی عمر بڑھ سکتی ہے اور ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔ پاکستانی شہریوں کے لیے یہ اس لیے اہم ہے کہ بنیادی انفراسٹرکچر کی بدانتظامی روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔

عمل یا حل

اب اصل امتحان اس حکم پر عمل درآمد کا ہے۔ صرف ایک اجلاس میں ہدایت دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا؛ ضرورت اس بات کی ہے کہ روڈ کٹنگ کے لیے واضح طریقہ کار، ایک مشترکہ منظوری نظام، اور کھدائی کے بعد فوری بحالی کا سخت شیڈول بنایا جائے۔ اگر ہر محکمہ اپنی مرضی سے کھدائی کرتا رہا تو عوامی مشکلات ختم نہیں ہوں گی۔

بہتر حل یہی ہے کہ گیس، پانی، بجلی، سیوریج اور دیگر متعلقہ ادارے ایک ہی منصوبہ بندی کے تحت کام کریں، تاکہ ایک سڑک بار بار نہ کھودی جائے۔ اب سوال یہ ہے: کیا راولپنڈی میں یہ نئی پابندی واقعی نظم و ضبط لائے گی، یا پھر کاغذی ہدایت بن کر رہ جائے گی؟