عوامی اثرات
بارش کی پہلی بوند گرتے ہی جڑواں شہروں اور پنجاب کے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے زندگی عذاب بن جاتی ہے۔ تعلیمی اداروں کی بندش سے بچوں کا تعلیمی حرج تو ہوتا ہی ہے، لیکن سڑکوں اور گلیوں میں جمع پانی دہائیوں سے جاری انتظامی غفلت کی داستان بیان کرتا ہے۔ دفتر جانے والے ملازمین، روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور اضطراری حالت میں نکلنے والی ایمبولینسز گھنٹوں ٹریفک جام اور جل تھل میں پھنسی رہتی ہیں۔ پانی کا ہر بڑھتا ہوا سطح شہریوں کے دل میں نالہ لئی کی طغیانی کے خوفناک ماضی کو تازہ کر دیتا ہے، جس سے ماضی میں جانی و مالی تباہی ہو چکی ہے۔
اس بار اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ پر قدرتی چشمے کا نمودار ہونا اگرچہ ایک دلکش منظر تھا، لیکن اس نے شہریوں کو زیرِ زمین پانی کے دباؤ اور ناقص شہری منصوبہ بندی پر تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ عوام میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے کہ ہر سال ڈرینج اور نالوں کی صفائی کے نام پر اربوں روپے کے بجٹ استعمال کرنے کے باوجود معمولی طوفان میں دارالحکومت اور راولپنڈی کا پورا نظام مفلوج کیوں ہو جاتا ہے؟ عام شہری یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ آخر کب تک ان کے گھر اور کاروبار انتظامی ناہلی کی نذر ہوتے رہیں گے۔
عمل یا حل
ماہرینِ ماحولیات اور شہری منصوبہ سازوں کا موقف ہے کہ صرف سائرن بجانے اور فلڈ الرٹ جاری کرنے سے تباہی کو نہیں روکا جا سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ کنکریٹ کی ناکام تعمیرات پر انحصار ختم کر کے ماحول دوست اور قدرتی ذرائع کا سہارا لے، تاکہ بارش کے پانی کا قدرتی بہاؤ بحال کیا جا سکے۔ نالہ لئی کی صفائی کے ساتھ ساتھ اس کے اطراف میں درخت لگانے اور قدرتی سپنج ہائیڈرولوجی کو فروغ دینے جیسے ہنگامی منصوبے شروع کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
اس کے علاوہ کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور راولپنڈی کی مقامی انتظامیہ کو محض کاغذی دعوؤں سے نکل کر نالوں کی تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز آپریشن کرنا ہوگا۔ غیر قانونی تعمیرات نے پانی کے راستے بند کر دیے ہیں جن کا خاتمہ کیے بغیر کوئی بھی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اگر اب بھی جڑواں شہروں کے بنیادی ڈھانچے کی پائیدار بنیادوں پر اصلاح نہ کی گئی تو مون سون کی اگلی لہریں مزید ہولناک تباہی لا سکتی ہیں۔
کیا ہمارے ادارے ہر بار سڑکیں ڈوبنے کے بعد ہی جاگیں گے، یا کبھی مون سون سے پہلے کوئی مستقل حل بھی سامنے آئے گا؟ اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔