مکمل تفصیلات
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے ہفتہ کے روز Geo News کے پروگرام 'جرگہ' میں کہا کہ احتجاج کرنا آئینی اور قانونی حق ہے، مگر اسلام آباد میں دھرنے اور لانگ مارچ نہیں ہونے چاہییں۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس روایت کو ختم کرنا ضروری ہے جس کے تحت سیاسی جماعتیں وفاقی دارالحکومت کی طرف مارچ کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو احتجاج کرنا ہو تو وہ فیصل آباد، حیدرآباد، کراچی، پشاور یا ملتان میں بھی احتجاج کر سکتا ہے۔
یہ بیان اس پس منظر میں سامنے آیا جب پاکستان تحریکِ انصاف اسلام آباد کی طرف ایک ملک گیر احتجاجی مارچ کی تیاری کر رہی تھی تاکہ اپنے بانی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا جا سکے۔ عمران خان اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ خبر کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے ایک روز پہلے یہ مارچ 4 اکتوبر تک مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اسی خبر میں یہ بھی بتایا گیا کہ جماعتِ اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کیا تھا، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر اسے بھی ملتوی کر دیا گیا، اور جماعتِ اسلامی نے یہ فیصلہ مجوزہ ملاقات تک مؤخر کیا۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2032865/protest-everyones-right-but-minus-islamabad-sanaullah-says-practice-of-marches-to-capital-should-end
عوامی اثرات
اسلام آباد میں احتجاجوں پر یہ بحث صرف ایک سیاسی نکتہ نہیں، بلکہ وفاقی دارالحکومت میں معمولاتِ زندگی، سکیورٹی، ٹریفک اور انتظامی کنٹرول سے جڑی ہوئی ہے۔ جب بھی کوئی بڑی جماعت یا اتحاد اسلام آباد کی طرف مارچ کرتا ہے تو سرکاری سرگرمیوں، شہریوں کی آمدورفت اور پولیس و انتظامیہ کی تیاریوں پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔ اس لیے رانا ثناء اللہ کا بیان دراصل ایک بڑے ریاستی اور سیاسی تنازعے کو چھیڑ رہا ہے۔
دوسری طرف اپوزیشن اور احتجاجی جماعتیں اسے اپنے حقِ احتجاج پر قدغن کے طور پر بھی دیکھ سکتی ہیں۔ عمران خان کی رہائی کے لیے PTI کی مہم، اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعتِ اسلامی کا مارچ، دونوں اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ مہنگائی، سیاسی گرفتاریوں اور حکومتی فیصلوں پر عوامی ردعمل اب سڑکوں تک پہنچ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ صرف اسلام آباد کا نہیں، پورے ملک کے سیاسی ماحول پر اثر انداز ہوتا ہے۔
عمل یا حل
اس صورتحال میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا احتجاج کا حق برقرار رکھتے ہوئے وفاقی دارالحکومت کو مستقل دھرنوں اور لانگ مارچ سے واقعی الگ رکھا جا سکتا ہے؟ حکومت چاہے تو احتجاج کے لیے متبادل مقامات اور باقاعدہ ضابطہ کار طے کر سکتی ہے، جبکہ سیاسی جماعتیں بھی اپنی طاقت دکھانے کے لیے شہری زندگی کو یرغمال بنانے کے بجائے دوسرے طریقے اختیار کر سکتی ہیں۔
اگر مذاکرات، پیشگی اجازت، اور واضح احتجاجی مقامات پر اتفاق ہو جائے تو تصادم کم ہو سکتا ہے۔ لیکن جب تک ہر فریق اسلام آباد کو دباؤ کے سب سے بڑے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا رہے گا، یہ تنازعہ ختم نہیں ہوگا۔ اب بحث یہی ہے: احتجاج حق ہے، مگر کیا دارالحکومت کو مستقل محاذ بنانا درست ہے؟