عوامی اثرات

نئے صوبوں کی تشکیل، بالخصوص جنوبی پنجاب کے محروم عوام کے لیے محض ایک انتظامی یا سیاسی بحث نہیں بلکہ ایک گہرا جذباتی اور بقا کا معاملہ ہے۔ دہائیوں سے ترقیاتی بجٹ کی غیر منصفانہ تقسیم اور بنیادی سہولیات سے محروم ان علاقوں کے باسیوں کو ہر عام انتخابات میں نئے صوبے کے سنہرے خواب دکھائے جاتے ہیں، لیکن اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہی سیاسی جماعتیں آئینی پیچیدگیوں کی آڑ لے کر پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔ رانا ثناء اللہ کے اس حالیہ بیان نے مقامی آبادی میں شدید مایوسی اور بے چینی کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ لوگ اسے ایک بار پھر حکمران اشرافیہ کی جانب سے وعدہ خلافی کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔

سیاسی طور پر اس بیان نے وفاق اور صوبوں کے درمیان طاقت اور وسائل کی تقسیم کے پرانے تنازع کو دوبارہ سلگا دیا ہے۔ پسماندہ اضلاع کے نوجوانوں اور سول سوسائٹی کا ماننا ہے کہ اگر حکومت واقعی مخلص ہوتی تو آٹھ ماہ کی طویل مدت کا عذر پیش کرنے کے بجائے فوری اور سنجیدہ قانون سازی کا آغاز کرتی۔ اس تاخیری رویے سے نہ صرف مسلم لیگ (ن) کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ جنوبی پنجاب اور دیگر پسماندہ پٹیوں میں مرکز مخالف جذبات کو مزید ہوا مل رہی ہے جو ملک کے مجموعی استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

عمل یا حل

اس دیرینہ قومی مسئلے کا واحد اور پائیدار حل یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں پوائنٹ اسکورنگ اور انتخابی نعروں سے بالاتر ہو کر ایک میز پر بیٹھیں اور نئے صوبوں کے قیام کے لیے ایک واضح، شفاف اور ناقابل تبدیل ٹائم لائن وضع کریں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ آٹھ ماہ کے مبہم دعووں کے بجائے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں پر مشتمل ایک بااختیار قومی کمیشن تشکیل دے، جو ہر پندرہ دن بعد عوام کو اپنی پیش رفت سے آگاہ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ، قومی میڈیا اور رائے عامہ ہموار کرنے والے اداروں کو بھی اس حساس معاملے پر مسلسل دباؤ برقرار رکھنا ہوگا تاکہ یہ اہم آئینی ترمیم سرد خانے کی نذر نہ ہو سکے۔

اگر اب بھی اس معاملے کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا اور صرف وقت گزاری کے لیے لارے لپے دیے جاتے رہے، تو پسماندہ علاقوں کا یہ لاوا کسی بھی وقت بڑے عوامی احتجاج یا سیاسی بائیکاٹ کی شکل میں پھٹ سکتا ہے۔ سیاسی قیادت کو سمجھنا ہوگا کہ اب عوام محض وعدوں پر مطمئن ہونے والے نہیں ہیں۔ اب اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلم لیگ (ن) واقعی نئے صوبوں کے قیام میں سنجیدہ ہے، یا یہ آٹھ ماہ کی مہلت صرف عوام کا غصہ ٹھنڈا کرنے کا ایک نیا سیاسی ڈرامہ ہے؟ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟