عوامی اثرات

بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے غریب مزدوروں کی زندگیوں کو ہمیشہ سے ہی انتہائی سستا اور بے وقعت سمجھا گیا ہے۔ کوئٹہ کے اس حالیہ سانحے کے بعد لواحقین کی طرف سے لاکھوں روپے کے معاوضے کو ٹھکرانا پاکستانی معاشرے میں ایک بڑے فکری اور احتجاجی انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔ یہ جرات مندانہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ اب غریب طبقہ اپنے پیاروں کی لاشوں پر روایتی سیاست اور چند لاکھ روپے کا مرہم قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس فیصلے نے کان کنوں کی زندگیوں کو درپیش سنگین خطرات اور مائننگ سیکٹر میں حفاظتی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں پر ایک نئی عوامی بحث چھیڑ دی ہے۔

عوامی سطح پر اس واقعے نے مقتدر حلقوں کی بے حسی کے خلاف شدید غصے کو جنم دیا ہے۔ عام شہریوں اور مزدور تنظیموں کا ماننا ہے کہ حکومت ہر سانحے کے بعد صرف مالی معاوضے کا اعلان کر کے اپنی آئینی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جاتی ہے، جبکہ ان کانوں کو موت کے کنویں بنانے والے بااثر مالکان قانون کی گرفت سے ہمیشہ آزاد رہتے ہیں۔ یہ احتجاج صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ بلوچستان کے ان ہزاروں محنت کشوں کی اجتماعی آواز بن چکا ہے جو روزانہ سینکڑوں فٹ گہری تاریک کانوں میں اترتے ہیں لیکن ان کی جان کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔

عمل یا حل

اس سنگین بحران کا حل اب محض معاوضے کی رقم بڑھانے میں نہیں، بلکہ مائننگ سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرانے میں چھپا ہے۔ حکومت اور متعلقہ مائنز ڈیپارٹمنٹ کو فوری طور پر کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر کی تمام فعال کانوں کا ہنگامی آڈٹ کرنا چاہیے اور مائن مالکان کو جدید حفاظتی آلات کی فراہمی کا پابند بنانا چاہیے۔ جو مالکان مزدوروں کو بغیر حفاظتی انتظامات کے موت کے منہ میں دھکیلتے ہیں، ان کے خلاف قتلِ عمد کے مقدمات درج ہونے چاہئیں تاکہ قانون کا خوف قائم ہو سکے۔

میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی اس معاملے کو محض ایک وقتی خبر کے طور پر دبنے نہیں دینا چاہیے بلکہ اسے ایک مستقل مہم کی شکل دینی ہوگی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست یہ فیصلہ کرے کہ کیا غریب محنت کشوں کی جانیں اتنی ہی سستی رہیں گی کہ انہیں چند لاکھ روپے کے عوض خاموش کرایا جاتا رہے؟ کیا ہم ایک ایسے منصفانہ معاشرے کی تعمیر کر سکتے ہیں جہاں مزدور کی جان کی قیمت معاوضے سے نہیں بلکہ اس کے تحفظ سے لگائی جائے؟ کیا لواحقین کا یہ جرات مندانہ اقدام مائننگ مافیا کے خلاف فیصلہ کن موڑ ثابت ہوگا؟