مکمل تفصیلات
پشاور میں پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے جب پارٹی کی حالیہ احتجاجی مارچ کی ناکامی کے بعد قیادت کے خلاف سوالات اٹھنے لگے۔ بدھ کے روز سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان الزامات کی جنگ شروع ہوئی، اور دونوں نے ایک دوسرے پر پارٹی کے مقصد سے انحراف کا تاثر دینے کی کوشش کی۔
یہ تنازع اس وقت مزید نمایاں ہوا جب خیبر پختونخوا کے بعض ارکانِ اسمبلی نے علی امین گنڈاپور کو پارٹی کا عبوری صوبائی صدر بنانے کی تجویز دی۔ سلمان اکرم راجہ نے اس پیش رفت پر سخت ناراضی ظاہر کی، جبکہ گنڈاپور نے جواب میں سیکریٹری جنرل سے نام لے کر تنقید کرنے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
پارٹی کے اندر سے ایک خاتون پارلیمنٹرین، جو پشاور سے ہیں، نے بھی مارچ کی ناکامی پر قیادت کو آڑے ہاتھوں لیا اور احتساب کا مطالبہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق اس ناکام احتجاج کے نتیجے میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ ہوا، اور اس سے پی ٹی آئی کے قید رہنما عمران خان کے لیے بھی سیاسی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2038929/pti-leadership-turns-on-itself-after-protest-debacle
تاریخِ اشاعت: 22 اکتوبر 2026، 12:34 PKT
عوامی اثرات
یہ خبر صرف پارٹی کی اندرونی لڑائی نہیں، بلکہ اس کا براہِ راست اثر خیبر پختونخوا کی سیاست، صوبائی نظم و نسق اور پی ٹی آئی کے ووٹرز پر پڑ رہا ہے۔ جب ایک بڑی سیاسی جماعت کے اندر قیادت، حکمتِ عملی اور ذمہ داری پر کھلا جھگڑا ہو، تو اس کا نقصان صرف کارکنوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ صوبے میں سیاسی استحکام بھی متاثر ہوتا ہے۔
گورنر راج کے نفاذ نے معاملے کو اور حساس بنا دیا ہے، کیونکہ اب عوام کی نظر اس بات پر ہے کہ احتجاجی سیاست کے نتیجے میں کون ذمہ دار ٹھہرے گا اور پارٹی اپنی سمت کیسے درست کرے گی۔ عمران خان کے چاہنے والوں کے لیے بھی یہ صورتحال تشویش ناک ہے، کیونکہ اندرونی اختلافات تحریک کی سیاسی طاقت کو کمزور کر سکتے ہیں۔
عمل یا حل
اب پی ٹی آئی کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ جذباتی بیانات اور باہمی الزام تراشی سے نکل کر کوئی واضح سیاسی حکمتِ عملی بنائے یا نہیں۔ اگر پارٹی واقعی بحران سے نکلنا چاہتی ہے تو اسے قیادت، احتجاجی حکمتِ عملی اور صوبائی تنظیم پر کھلے اور منظم اندرونی فیصلے کرنا ہوں گے، ورنہ اختلافات مزید پھیل سکتے ہیں۔
عوام اور کارکن یہی دیکھ رہے ہیں کہ کیا پارٹی اپنی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرے گی یا پھر ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہراتی رہے گی۔ سوال یہ ہے: کیا پی ٹی آئی اس بحران سے سبق لے کر خود کو سنبھالے گی، یا اندرونی لڑائی اسے مزید کمزور کر دے گی؟