مکمل تفصیلات
جمعرات کو پاکستان تحریک انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی جنید اکبر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی ثالثی یا کردار ادا کرنے کی پیشکش پر پی ٹی آئی کے لیے راستہ بند نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی سیاسی لوگ ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مسائل کا حل بات چیت سے نکل سکتا ہے، بشرطیکہ نیت واقعی مذاکرات کی ہو، کسی طرح پی ٹی آئی کو الجھانے یا پھانسنے کی نہیں۔
جنید اکبر کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے پی ٹی آئی قیادت سے رابطہ کیا تھا اور یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ اگر پارٹی مناسب سمجھے تو وہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پیدا ہونے والا جمود ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہ بیان انہوں نے جمعرات کی شام جیو نیوز کے پروگرام "آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ" میں دیا۔
پس منظر یہ ہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان دو دور کی بات چیت ہوئی تھی۔ یہ مذاکرات پی ٹی آئی کے اس مجوزہ مارچ سے پہلے ہوئے تھے جو ابتدائی طور پر اسلام آباد کی طرف ہونا تھا، اور جس کا مقصد قید پارٹی بانی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ تھا۔ تاہم یہ بات چیت تعطل پر ختم ہوئی۔
مذاکرات کے دوران دو بڑے نکات پر اختلاف سامنے آیا: انسدادِ دہشت گردی سے متعلق پالیسی اور عمران خان تک رسائی۔ اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2035731/ptis-doors-are-open-to-fazls-offer-to-play-a-role-in-breaking-deadlock-with-govt-junaid-akbar
عوامی اثرات
یہ معاملہ صرف ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ملک میں جاری کشیدگی اور مذاکراتی ماحول سے جڑا ہوا ہے۔ جب حکومت، اپوزیشن اور ایک مذہبی سیاسی جماعت کے درمیان ثالثی کی بات آتی ہے تو اس کا اثر پارلیمان، احتجاجی سیاست اور سڑکوں پر موجود عوام سب پر پڑتا ہے۔ پی ٹی آئی کے حامیوں کے لیے عمران خان تک رسائی اور ان کی رہائی کا سوال جذباتی بھی ہے اور سیاسی بھی، اس لیے ہر نئی پیش رفت فوری توجہ کھینچتی ہے۔
دوسری طرف اگر انسدادِ دہشت گردی پالیسی جیسے حساس نکات پر اتفاق نہ ہو تو صرف ایک جماعت نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام کی سمت متاثر ہوتی ہے۔ ایسے معاملات میں عوام یہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ آیا سیاسی قیادت واقعی بات چیت سے مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے یا پھر محاذ آرائی مزید بڑھے گی۔
عمل یا حل
اب اصل سوال یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی ممکنہ ثالثی واقعی کوئی پیش رفت لا سکتی ہے یا نہیں۔ جنید اکبر کے بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ پی ٹی آئی کم از کم دروازہ بند کرنے کے موڈ میں نہیں، مگر ساتھ ہی وہ اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ مذاکرات خلوص نیت سے ہوں۔
آگے بڑھنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ان نکات پر واضح اور عملی مؤقف دینا ہوگا جن پر اب تک بات اٹکی ہوئی ہے، خاص طور پر انسدادِ دہشت گردی پالیسی اور عمران خان تک رسائی کے معاملے پر۔ اگر ثالثی واقعی ہونی ہے تو اسے اعتماد سازی کے ساتھ ہونا پڑے گا، ورنہ ایک اور دورِ گفتگو بھی وہیں آ کر رک سکتا ہے۔ سوال یہ ہے: کیا پاکستانی سیاست میں اب بھی مذاکرات مسئلہ حل کر سکتے ہیں، یا ہر فریق صرف اپنی شرط منوانا چاہتا ہے؟