مکمل تفصیلات
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتہ کے روز تمام بین الاقوامی ایئرپورٹس پر “اسمارٹ اسکینرز” نصب کرنے کا حکم دیا۔ یہ ہدایت انہوں نے کسٹمز انفورسمنٹ کے جائزے کے لیے ہونے والے اجلاس میں دی، جو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر احد خان چیمہ اور وفاقی وزیر عطااللہ تارڑ موجود تھے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ اسکینرز فوری طور پر درآمد کیے جائیں اور نصب ہونے کے بعد مسافروں کے سامان کی جانچ ہاتھ سے کھول کر تلاشی لینے کے بجائے نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے کی جائے۔ انہوں نے کسٹمز حکام کو بھی ہدایت دی کہ ایئرپورٹس پر مسافروں سے غیر ضروری سوالات کے ذریعے انہیں ہراساں نہ کیا جائے۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2036166/pm-shehbaz-orders-installation-of-smart-scanners-at-airports
تاریخِ اشاعت: 11 اکتوبر 2026، 00:11 PKT
اس اقدام کا مقصد ایئرپورٹس پر چیکنگ کے پرانے طریقوں کو بدلنا اور مسافروں کے لیے عمل کو تیز اور کم تکلیف دہ بنانا بتایا گیا ہے۔
عوامی اثرات
یہ فیصلہ براہِ راست ان ہزاروں مسافروں کو متاثر کرے گا جو روزانہ پاکستان کے بین الاقوامی ایئرپورٹس سے سفر کرتے ہیں۔ ہاتھ سے تلاشی، بار بار سوالات اور غیر ضروری تاخیر اکثر مسافروں کے لیے جھنجھلاہٹ اور وقت کا ضیاع بن جاتی ہے۔ اگر اسمارٹ اسکینرز واقعی مؤثر انداز میں لگ گئے تو ایئرپورٹس پر قطاریں کم ہو سکتی ہیں، سامان کی جانچ تیز ہو سکتی ہے اور شہریوں کو زیادہ باعزت سفری تجربہ مل سکتا ہے۔
یہ معاملہ صرف سہولت کا نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے رشتے کا بھی ہے۔ جب ایئرپورٹ پر عملہ غیر ضروری سختی یا تفتیشی رویہ اپناتا ہے تو بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی بھی اسی نظام سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس فیصلے سے امید پیدا ہوئی ہے کہ اب ٹیکنالوجی کے ذریعے جانچ ہوگی، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا زمینی سطح پر اس پر واقعی عمل بھی ہوگا یا یہ بھی فائلوں تک محدود رہ جائے گا؟
عمل یا حل
اب اصل امتحان درآمد، تنصیب اور عملی نفاذ کا ہے۔ اگر حکومت اس ہدایت کو سنجیدگی سے آگے بڑھاتی ہے تو کسٹمز کے طریقۂ کار میں واضح بہتری آ سکتی ہے، لیکن اس کے لیے ایئرپورٹس پر یکساں معیار، تربیت یافتہ عملہ اور نگرانی ضروری ہوگی۔ صرف اعلان کافی نہیں؛ مسافروں کو فوری طور پر اس تبدیلی کا فائدہ بھی نظر آنا چاہیے۔
یہ قدم ایک بڑے سوال کو بھی جنم دیتا ہے: کیا پاکستان کے ادارے اب واقعی پرانے، مشکوک اور وقت ضائع کرنے والے طریقوں سے نکل کر جدید نظام اپنانے کو تیار ہیں؟ اگر ہاں، تو یہ سفر آسان، تیز اور کم تناؤ والا ہو سکتا ہے۔ اگر نہیں، تو پھر “سہولت” صرف ایک سرکاری نعرہ رہ جائے گی۔