مکمل تفصیلات
وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو اسلام آباد میں ڈینش اسکول کا افتتاح کیا۔ انہوں نے افتتاحی تقریب میں کہا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد باصلاحیت مگر کم آمدن خاندانوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے تاکہ ان کے لیے ترقی کے دروازے بھی اتنے ہی کھلیں جتنے امیر گھرانوں کے بچوں کے لیے کھلتے ہیں۔ ڈینش اسکولوں کا آغاز پنجاب حکومت نے کیا تھا اور انہیں ملک میں لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے بورڈنگ اسکولوں کا سب سے بڑا نیٹ ورک کہا جاتا ہے۔
تقریب کے دوران وزیراعظم نے ڈینش اسکول کے سابق طلبہ و طالبات کی کامیابیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی کی مثال دی جس نے مشکلات کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھی، اور بہاولپور کی ایک خاتون کا بھی حوالہ دیا جو بچپن میں والد کے انتقال کے بعد ڈاکٹر بنی۔ اس سے حکومت کا یہ مؤقف نمایاں ہوا کہ تعلیمی مواقع صرف طبقاتی بنیاد پر محدود نہیں ہونے چاہئیں۔
تاریخ: اتوار، 18 اکتوبر 2026
مقام: اسلام آباد، پاکستان
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2038025/pm-shehbaz-inaugurates-daanish-school-in-islamabad-stresses-equal-academic-opportunities
ماخذ: Dawn - Home
عوامی اثرات
یہ خبر اس لیے اہم ہے کہ پاکستان میں تعلیم کا مسئلہ صرف اسکول بنانے کا نہیں، بلکہ برابر رسائی کا بھی ہے۔ مہنگی فیسیں، دور دراز علاقوں کی محرومی اور اچھے تعلیمی اداروں تک محدود رسائی ہزاروں ذہین بچوں کو پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ ڈینش اسکول جیسے منصوبے ان خاندانوں کے لیے امید بن سکتے ہیں جن کے پاس وسائل کم ہیں لیکن صلاحیت بہت زیادہ ہے۔
اسلام آباد میں اس افتتاح نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا ریاست واقعی غریب، دیہی اور محروم طبقوں کے بچوں کو وہی معیار دے رہی ہے جو طاقتور طبقے کے بچوں کو ملتا ہے۔ اگر ایسے ادارے شفاف، وسیع اور مستقل بنیادوں پر چلیں تو ان کا اثر صرف ایک اسکول تک محدود نہیں رہتا، پورے معاشرے میں اوپر آنے کے مواقع بڑھتے ہیں۔
عمل یا حل
اس خبر کا عملی سبق یہ ہے کہ تعلیمی اصلاحات کو صرف نعروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اگر ڈینش اسکول ماڈل کامیاب ہے تو اسے زیادہ اضلاع، خصوصاً کم ترقی یافتہ علاقوں تک پھیلانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی داخلے کا معیار، شفافیت، اور مستحق طلبہ کے انتخاب کا نظام مضبوط ہونا چاہیے تاکہ یہ سہولت واقعی انہی بچوں تک پہنچے جن کے لیے یہ بنائی گئی ہے۔
حکومت کے لیے اصل امتحان افتتاح نہیں، تسلسل ہے: فنڈنگ، اساتذہ، رہائش، معیار اور نتائج۔ اگر یہ سب برقرار رہے تو ایسے ادارے سماجی فرق کم کر سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں معیاری تعلیم صرف چند خاندانوں کی میراث رہے گی، یا واقعی ہر ذہین بچے کا حق بنے گی؟