عوامی اثرات
اس شاہانہ منصوبے کا براہ راست اثر پاکستان کے ان لاکھوں کسانوں، چھوٹے تاجروں اور درمیانے طبقے کے محنت کشوں پر پڑے گا جو دہائیوں سے اپنے ذاتی گھر اور کاروبار کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ مہنگائی اور فلک شگاف سود کی شرح کے اس دور میں عام شہری کے لیے بینک کی دہلیز پار کرنا کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا۔ اگر یہ زراعت اور ہاؤسنگ سکیمیں شفافیت کے ساتھ نافذ ہوتی ہیں تو اس سے دیہی معیشت کو شدید سہارا ملے گا اور شہروں میں کرائے کے مکانوں کی ذلت کاٹنے والے خاندانوں کو ریلیف مل سکے گا۔
تاہم، اس چمکدار اعلان کے پیچھے عوام کے شدید تحفظات اور ماضی کا تلخ تجربہ بھی کھڑا ہے۔ عوام کا سب سے بڑا اندیشہ یہی ہے کہ بینکوں کی کڑی شرائط، ناقابل فہم کاغذی کارروائیاں اور افسرشاہی کا روایتی رویہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی راستے کی دیوار بنے گا۔ لوگوں کو ڈر ہے کہ یہ اربوں روپے کا فنڈ کہیں صرف بااثر شخصیات اور سارplots ہی نہ نگل جائیں، جبکہ اصل مستحق اور غریب فارمر بینکوں کے چکر کاٹ کاٹ کر مایوس ہو جائے۔
عمل یا حل
حکومت اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس ۲0 کھرب کے ہدف کو محض پریس ریلیز اور سیاسی نعرے تک محدود نہ رہنے دیں۔ بینکوں کی من مانی اور غیر ضروری شرائط کو ختم کر کے ایک انتہائی آسان اور ڈیجیٹل طریقہ کار وضع کیا جائے جس میں سفارش اور رشوت کا نظام مکمل ختم ہو جائے۔ ہر بینک کے لیے لازمی ہدف مقرر کیا جائے کہ وہ اپنے مجموعی فنڈز کا ایک مخصوص حصہ دیہی اور غریب علاقوں کے نچلے طبقے تک بلا تاخیر پہنچائے۔
اس کے ساتھ ساتھ پارلیمان اور میڈیا کو بھی اس رقم کی تقسییم پر کڑی نظر رکھنی ہوگی تاکہ ایک ایک روپئے کا حساب شفاف رہے۔ اگر حکومت اس منصوبے کو سیاسی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ ملک کی ڈوبتی معیشت کے لیے ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
کیا آپ کو لگتا ہے کہ پاکستان کے تجارتی بینک واقعی کسی عام اور غریب شہری کو بغیر کسی سفارش یا رشوت کے اتنا بڑا قرض دیں گے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔