مکمل تفصیلات
اسلام آباد میں پیر کے روز وزیراعظم شہباز شریف نے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی یعنی Smeda کے بارے میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے واضح ہدایت دی کہ چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے فنانسنگ کو 2028 تک 1.1 کھرب روپے سے بڑھا کر 2.2 کھرب روپے کیا جائے۔ یہ بات وزیراعظم آفس کی جاری کردہ پریس ریلیز میں بتائی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ کاروباری طبقہ ہر ملک کی معیشت کی بنیاد ہوتا ہے، جبکہ پاکستان کے ایس ایم ایز میں ایسا پوٹینشل موجود ہے جو معاشی ترقی کو تیز کر سکتا ہے اور ملک بھر میں کاروباری مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے Smeda میں جاری اصلاحات کو بھی اہم قرار دیا، جن کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کو بااختیار بنانا اور کاروبار شروع کرنے یا پھیلانے میں سہولت دینا ہے۔
مزید ہدایت کے مطابق Smeda کو کاروباری قرضوں تک رسائی بڑھانے، اور فزیبلٹی اسٹڈیز مقامی زبانوں میں تیار کرنے کا کہا گیا ہے تاکہ زیادہ لوگ انہیں سمجھ کر فائدہ اٹھا سکیں۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2036763/pm-sets-rs22tr-sme-financing-target-by-2028
تاریخ: پیر، 13 اکتوبر 2026، 14:04 PKT
ماخذ: Dawn - Pakistan
عوامی اثرات
یہ فیصلہ براہِ راست اُن لاکھوں پاکستانیوں سے جڑا ہے جو چھوٹا کاروبار چلاتے ہیں یا شروع کرنا چاہتے ہیں۔ دکان، ورکشاپ، مینوفیکچرنگ، سروسز، یا گھریلو سطح کے کاروبار—سب کے لیے قرض تک رسائی بڑا مسئلہ رہتا ہے۔ اگر فنانسنگ واقعی دگنی ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف بینکنگ فائلوں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ روزگار، سرمایہ کاری اور مقامی منڈیوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور کاروباری لاگت کے دباؤ کے درمیان یہ اعلان امید بھی پیدا کرتا ہے اور سوال بھی۔ کیا قرض واقعی عام کاروباری تک پہنچے گا یا فائدہ صرف بڑے اور پہلے سے مضبوط کھلاڑیوں کو ہوگا؟ اسی لیے اس فیصلے کی اصل کامیابی اعداد و شمار سے نہیں، بلکہ زمینی رسائی سے ناپی جائے گی۔
عمل یا حل
اب اصل امتحان نفاذ کا ہے۔ اگر Smeda واقعی کاروباری قرضوں کی معلومات، فزیبلٹی اسٹڈیز اور رہنمائی مقامی زبانوں میں دے، تو چھوٹے کاروباری افراد کے لیے راستہ آسان ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ اداروں کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ قرض لینے کا طریقہ سادہ ہو، شرائط واضح ہوں، اور درخواست دینے والا غیر ضروری کاغذی کارروائی میں نہ پھنسے۔
حکومت کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ ایس ایم ای سیکٹر کو صرف تقریروں میں نہیں بلکہ عملی سہولت میں تبدیل کرے۔ اگر 2028 کا ہدف سنجیدگی سے حاصل کرنا ہے تو سوال یہی ہے: کیا یہ رقم واقعی نئی نوکریاں، نئے یونٹ اور نئے کاروبار پیدا کرے گی، یا پھر ایک اور بڑا اعلان بن کر رہ جائے گی؟