مکمل تفصیلات

وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز 2027 کے لیے گندم کی اشارتی قیمت 4,500 روپے فی من مقرر کی۔ یہ رقم گزشتہ سال طے کی گئی خریداری قیمت سے 1,000 روپے زیادہ ہے۔ وزیراعظم آفس (PMO) کے بیان کے مطابق یہ فیصلہ زرعی لاگت میں اضافے کو سامنے رکھ کر کیا گیا، تاکہ کسانوں کو کچھ مالی سہارا مل سکے اور آئندہ سیزن میں گندم کی پیداوار بڑھائی جا سکے۔

بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے یہ فیصلہ صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کی رہنمائی میں کیا، جبکہ پنجاب اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ سے بھی مشاورت کی گئی۔ PMO کے مطابق اس پالیسی کا مقصد صرف قیمت بڑھانا نہیں بلکہ زرعی شعبے کو مضبوط کرنا، کسانوں کے معاشی مفادات کا تحفظ کرنا اور اگلے سال گندم کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔

تاریخ و وقت: جمعہ، 2026-10-23، خبر شائع ہوئی 22:50 PKT پر۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2039263/pm-sets-indicative-wheat-price-at-rs4500-per-maund-for-2027
ماخذ: Dawn - Home

عوامی اثرات

اس فیصلے کا براہِ راست اثر پنجاب، سندھ اور ملک بھر کے گندم اگانے والے کسانوں پر پڑے گا، کیونکہ خریداری قیمت ہی ان کی آمدن، لاگت اور اگلے سیزن کی تیاری طے کرتی ہے۔ ایندھن، کھاد، بیج اور دیگر زرعی اخراجات بڑھنے کے بعد کسان عرصے سے بہتر ریٹ کا مطالبہ کر رہے تھے، اس لیے یہ اعلان ان کے لیے فوری ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

عام صارفین کے لیے بھی یہ خبر اہم ہے، کیونکہ گندم کی قیمت اور سرکاری خریداری پالیسی آٹے کی منڈی، ذخیرہ اندوزی کے خدشات اور خوراکی مہنگائی پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اگر حکومت مناسب خریداری، ترسیل اور ذخیرہ نظام بہتر نہ رکھ سکی تو فائدہ کسان تک پہنچنے کے بجائے بازار میں نئی بے یقینی بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

عمل یا حل

اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا 4,500 روپے فی من کی یہ اشارتی قیمت عملی طور پر کسان تک پہنچ بھی پائے گی یا صرف اعلان تک محدود رہے گی۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ خریداری مراکز، ادائیگی کے نظام، باردانہ، نقل و حمل اور صوبائی ہم آہنگی کو پہلے سے مضبوط کرے تاکہ کسان کو بروقت رقم ملے اور بیچ میں کوئی تاخیر یا کٹوتی نہ ہو۔

اگر یہ پالیسی صحیح طریقے سے نافذ ہوئی تو اس سے اگلی فصل میں اعتماد بڑھے گا اور گندم کی پیداوار میں بہتری آ سکتی ہے۔ لیکن اگر خریداری میں بے ضابطگی، تاخیر یا مارکیٹ میں مصنوعی دباؤ رہا تو کسان پھر نقصان میں رہیں گے۔ سوال یہ ہے: کیا حکومت اس بار صرف نرخ نہیں، پورا نظام بھی ٹھیک کرے گی؟