عوامی اثرات

یہ فیصلہ اسلام آباد کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں علاج لینے والے لاکھوں مریضوں کے لیے براہِ راست اہمیت رکھتا ہے۔ PIMS وہ جگہ ہے جہاں عام شہری، ملازمین، دور دراز سے آنے والے مریض اور ایمرجنسی کیسز سب سے زیادہ انحصار کرتے ہیں، اس لیے اگر وہاں نظام بہتر نہ ہو تو اس کی قیمت عوام اپنی صحت اور وقت دونوں سے چکاتے ہیں۔ فائر سیفٹی، انتظامی شفافیت اور سہولتوں کی بہتری محض دفتری باتیں نہیں بلکہ جان بچانے والا مسئلہ ہیں۔

پاکستان میں سرکاری ہسپتالوں سے جڑی شکایات برسوں سے عوامی غصے کا سبب رہی ہیں: لمبی قطاریں، ناقص صفائی، سہولتوں کی کمی اور بدانتظامی۔ ایسے میں جب وزیراعظم خود اس سطح پر مداخلت کریں تو لوگوں کی توقع بڑھ جاتی ہے کہ اب صرف بیانات نہیں بلکہ عملی تبدیلی آئے گی۔ اگر یہ اصلاحات سنجیدگی سے نافذ ہوئیں تو یہ دوسرے سرکاری اداروں کے لیے بھی مثال بن سکتی ہیں۔

عمل یا حل

اب اصل امتحان احکامات نہیں، عملدرآمد ہے۔ PIMS اور Polyclinic دونوں میں جو خامیاں سامنے آئی ہیں، ان پر 3 ماہ کے اندر قابلِ عمل سفارشات آنا ضروری ہیں تاکہ معاملہ فائلوں میں دب نہ جائے۔ آڈٹ، فائر سیفٹی، اور انتظامی نگرانی کے لیے واضح ذمہ داریاں طے ہونی چاہئیں، ورنہ ہر نئی میٹنگ کے بعد وہی پرانا نتیجہ نکلے گا: عوامی مشکلات، اور جواب دہی صفر۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہسپتالوں کی بہتری کو وقتی مہم نہیں بلکہ مستقل اصلاحی نظام بنایا جائے۔ CDA، وزارتِ صحت اور ہسپتال انتظامیہ کے درمیان واضح ٹائم لائن، عوامی نگرانی اور شفاف رپورٹنگ ہونی چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اس بار PIMS کو واقعی ماڈل ہسپتال بنائے گی، یا یہ بھی ایک اور بلند اعلان ثابت ہوگا؟