عوامی اثرات

PIMS اسلام آباد کا ایک اہم سرکاری ہسپتال ہے، جہاں روزانہ ہزاروں مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ ایسے ادارے میں آتشزدگی کا واقعہ صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ براہِ راست مریضوں، ان کے لواحقین اور عملے کی جانوں سے جڑ جاتا ہے۔ وزیرِاعظم کی جانب سے تین ماہ کی ڈیڈ لائن اس لیے اہم ہے کہ اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ اب معاملہ فائلوں میں دبانے کے بجائے عملی قدم کی طرف جانا ہوگا۔

پاکستان میں سرکاری ہسپتالوں کے حوالے سے سب سے بڑا دکھ یہی ہے کہ خرابی سامنے آتی ہے، مگر بہتری سست روی کا شکار رہتی ہے۔ PIMS جیسے بڑے ادارے میں اگر حفاظتی نظام، ایمرجنسی ردعمل اور انتظامی نگرانی مضبوط نہ ہو تو اس کا خمیازہ عام شہری بھگتتے ہیں۔ اسی لیے یہ خبر صرف ایک ہدایت نہیں بلکہ عوامی اعتماد، مریضوں کی حفاظت اور سرکاری نظام کی جوابدہی کا امتحان بھی ہے۔

عمل یا حل

اب اصل سوال یہ ہے کہ تین ماہ کے اندر کون سی سفارشات واقعی نافذ ہوں گی اور کن پر صرف رسمی کارروائی ہوگی۔ اگر انکوائری رپورٹ اور پرفارمنس آڈٹ کے بعد بھی ہسپتال کی فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس، عملے کی تربیت اور نگرانی میں واضح تبدیلی نہ آئی تو پھر ایسی ہدایات کا فائدہ کیا؟ حکومت کو چاہیے کہ ہر سفارش کے لیے واضح ذمہ داری، ٹائم لائن اور نگرانی کا نظام بنائے، تاکہ کوئی ادارہ پھر اسی غفلت کا شکار نہ ہو۔

عوام بھی یہی پوچھ رہے ہیں کہ کیا بڑے سرکاری ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات واقعی بہتر ہوں گے یا ہر واقعے کے بعد صرف اجلاس، رپورٹ اور اعلان کی روایت چلتی رہے گی؟ اگر PIMS میں اصلاحات سنجیدگی سے نافذ ہو جاتی ہیں تو یہ دوسرے ہسپتالوں کے لیے بھی مثال بن سکتی ہیں۔ ورنہ یہ معاملہ ایک اور سرکاری فائل بن کر رہ جائے گا۔ سوال یہی ہے: کیا اس بار عمل ہوگا یا پھر صرف حکم نامہ؟