عوامی اثرات

سمندر کے سفر کے دوران اس قسم کے المناک حادثات دنیا بھر کے عوام بالخصوص ترقی پذیر ممالک کے لوگوں کے لیے انتہائی تشویش ناک ہوتے ہیں۔ فلپائن میں پیش آنے والا یہ ہولناک واقعہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں پر قیامت ڈھاہ رہا ہے بلکہ اس نے سمندری اور نہری سفر کے حفاظتی انتظامات پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں دریائی اور ساحلی لانچوں میں اکثر گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جاتے ہیں اور آگ بجھانے کے الات ناپید ہوتے ہیں، وہاں یہ واقعہ ایک ڈراؤنا خواب بن کر سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

اس طرح کے سانحات عوام میں سفر کے دوران گہرے خوف اور عدم تحفظ کے احساس کو جنم دیتے ہیں۔ جب سستی سواری اور ناقص انتظام کی قیمت انسانی جانوں کی صورت میں ادا کرنی پڑے تو عوام کا حکومتی اور انتظامی اداروں سے اعتماد مکمل طور پر اٹھ جاتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس واقعے نے ایک بار پھر بحری اداروں کی غفلت اور ایمرجنسی پروٹوکولز کی عدم موجودگی کو بے نقاب کر دیا ہے، جس پر سوشل میڈیا پر بھی شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

عمل یا حل

اس نوعیت کے دل دہلا دینے والے حادثات سے بچاؤ کے لیے تمام بحری اور سمندری ٹرانسپورٹ کمپنیوں پر سخت ترین حفاظتی قوانین کا اطلاق فوری طور پر ضروری ہے۔ کسی بھی مسافر بردار جہاز کو روانگی کی اجازت دینے سے قبل اس کے فائر فائٹنگ سسٹم، لائف جیکٹس اور لائف بوٹس کی مکمل پڑتال ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ کوسٹ گارڈز اور ایمرجنسی ٹیموں کا ردعمل مزید تیز اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ قیمتی جانوں کا نقصان کم سے کم ہو سکے۔

پاکستان سمیت تمام ممالک کو اس حادثے سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنے سمندری اور نہری سفر کے نظام کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے۔ لائسنسنگ کے عمل کو شفاف بنانے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی اور مقامی ادارے ایسے المناک حادثات کے بعد جاگیں گے یا پھر ہر بار معصوم جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے بعد ہی تحریری فائلیں کھولی جائیں گی؟