مکمل تفصیلات

پشاور کے علاقے Afridi Abad میں جمعرات کے روز ایک دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا جب نجی اسکول Al Khair School کی چھت اچانک گر گئی۔ اس سانحے میں کم از کم 21 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 20 طلبہ اور ایک خاتون ٹیچر شامل ہیں۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال (LRH) کے ترجمان Muhammad Asim نے Dawn کو بتایا کہ جاں بحق ہونے والے طلبہ میں 18 لڑکے اور 2 لڑکیاں شامل تھیں، اور ان کی عمریں 7 سے 12 سال کے درمیان تھیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 21 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں 5 کی حالت نازک ہے۔

پشاور کے ڈپٹی کمشنر Afaq Wazir نے Dawn کو بتایا کہ چھت گرنے کے وقت طلبہ اپنی کلاسوں میں موجود تھے اور ملبے تلے دب گئے۔ ڈپٹی کمشنر دفتر کے بیان کے مطابق ریسکیو کارروائیاں جاری تھیں اور اہلکار ملبہ ہٹا کر دبے ہوئے افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسپتال انتظامیہ نے صورتحال کی سنگینی کے باعث ایمرجنسی نافذ کی۔

تاریخ: جمعرات، 15 اکتوبر 2026
وقتِ اشاعت: 16:58 PKT
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2037299/at-least-21-killed-as-school-roof-collapses-in-peshawar
ماخذ: Dawn - Home

عوامی اثرات

یہ صرف ایک اسکول حادثہ نہیں بلکہ پورے شہر کے لیے حفاظتی نظام پر بڑا سوال ہے۔ جب ایک نجی تعلیمی ادارے میں بچے کلاس رومز کے اندر ہوں اور چھت ہی ان پر آ گرے تو والدین کے ذہن میں سب سے پہلا سوال یہی آتا ہے کہ عمارت کی جانچ کس نے کی، اور اجازت کس بنیاد پر دی گئی۔ 7 سے 12 سال کے بچوں کی جانیں جانا صرف اعداد نہیں، یہ پورے گھرانوں کے ٹوٹنے کی کہانی ہے۔

پشاور اور ملک بھر میں ایسے واقعات عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی باقاعدہ جانچ، ساختی معائنہ اور ذمہ داری کا نظام کتنا کمزور ہے۔ زخمیوں میں 5 کی حالت نازک ہونا مزید تشویش بڑھا رہا ہے، جبکہ اسپتالوں پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔

عمل یا حل

اب سب سے فوری ضرورت ملبے تلے دبے تمام افراد کی بازیابی، زخمیوں کا بہتر علاج اور جاں بحق ہونے والوں کی فوری شناخت و سہولت ہے۔ انتظامیہ کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ Al Khair School کی عمارت کس حالت میں تھی، چھت کیوں گری، اور کیا اس اسکول کی اجازت یا معائنے میں کوئی غفلت ہوئی۔ اگر عمارت غیر محفوظ تھی تو ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے، ورنہ یہ سانحہ دوبارہ کہیں اور دہرایا جا سکتا ہے۔

یہ واقعہ ایک سخت قومی بحث مانگتا ہے: کیا پاکستان میں اسکولوں، کالجوں اور نجی تعلیمی اداروں کی عمارتیں واقعی محفوظ ہیں یا ہم صرف حادثے کے بعد حرکت میں آتے ہیں؟ والدین اپنے بچوں کو پڑھنے بھیجتے ہیں، امتحان دینے نہیں بلکہ محفوظ واپس لینے کے لیے۔ اب سوال یہ ہے کہ جواب دہ کون ہوگا؟