مکمل تفصیلات

پشاور میں جمعرات کے روز صوبائی دارالحکومت کے کئی بڑے علاقوں میں موبائل فون اور سیلولر انٹرنیٹ سروسز بند رہیں۔ Dawn کے مطابق یہ غیر اعلانیہ تعطل بدھ رات سے شروع ہوا تھا اور اگلے دن بھی برقرار رہا۔

یہ صورتحال پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے پس منظر میں سامنے آئی، جو 4 اکتوبر کو لکی مروت سے شروع ہوا تھا اور پارٹی کے شیڈول کے مطابق جمعرات کو پشاور پہنچنا تھا۔ یہ احتجاجی مارچ پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے نکالا گیا ہے۔ بدھ کی شام تک یہ مارچ خیبر ضلع میں داخل ہو چکا تھا۔

صوبائی حکومت کی طرف سے اس موبائل بندش پر فوری طور پر کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا، لیکن پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے ایک افسر نے Dawn کو تصدیق کی کہ اعلیٰ حکام کی ہدایت پر سروس معطل کی گئی۔ افسر کے مطابق یہ قدم عارضی تھا اور لانگ مارچ کے دوران سکیورٹی احتیاط کے طور پر اٹھایا گیا۔ اسی افسر نے یہ بھی بتایا کہ وزارت کی ہدایات بدھ کی رات پہنچا دی گئی تھیں۔

تاریخ: 8 اکتوبر 2026، جمعرات
وقتِ اشاعت: 20:30 PKT
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2035662/mobile-services-reportedly-non-functional-in-parts-of-peshawar-ahead-of-pti-marchs-expected-arrival

عوامی اثرات

اس بندش کا براہِ راست اثر پشاور کے ان شہریوں پر پڑا جو رابطے، کاروباری معاملات، سفر، رائیڈ ہیلنگ، آن لائن ادائیگیوں اور فوری معلومات کے لیے موبائل سروسز پر انحصار کرتے ہیں۔ جب کال، ڈیٹا اور انٹرنیٹ ایک ساتھ متاثر ہوں تو عام آدمی کی روزمرہ زندگی ایک دم رک سی جاتی ہے، خاص طور پر ایسے شہر میں جہاں سیاسی سرگرمی بھی تیز ہو۔

دوسری طرف، سیاسی احتجاج کے موقع پر مواصلاتی سروسز کی معطلی ہمیشہ سوالات بھی کھڑے کرتی ہے: کیا سکیورٹی کے نام پر شہریوں کی سہولت قربان کی جا رہی ہے، یا حالات واقعی ایسے تھے کہ یہ قدم ضروری سمجھا گیا؟ یہی وہ نکتہ ہے جو اس خبر کو صرف ایک تکنیکی بندش نہیں بلکہ ایک بڑے عوامی اور سیاسی مسئلے میں بدل دیتا ہے۔

عمل یا حل

اب اصل سوال یہ ہے کہ اگر سروس بندش سکیورٹی وجہ سے کی گئی تو اس کی واضح، بروقت اور سرکاری وضاحت کیوں نہیں دی گئی؟ شہریوں کو کم از کم اتنا تو بتایا جانا چاہیے کہ بندش کب تک رہے گی اور کن علاقوں میں اس کا دائرہ ہے، تاکہ لوگوں کو غیر ضروری پریشانی نہ ہو۔

حکام کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ سکیورٹی اور عوامی سہولت کے درمیان توازن رکھا جائے۔ اگر لانگ مارچ کے باعث احتیاطی اقدامات ناگزیر تھے تو شفاف ابلاغ بھی اتنا ہی ضروری تھا۔ سوال یہ ہے: کیا احتجاج کے دنوں میں پورا شہر خاموش کرا دینا حل ہے، یا ریاست کو ایسا طریقہ نکالنا چاہیے جس میں شہریوں کا رابطہ بھی قائم رہے؟