مکمل تفصیلات
پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے جمعہ کے روز پاکستان تحریک انصاف کے 27 رہنماؤں کی درخواستوں پر وکلا کو آخری موقع دے دیا۔ ان درخواستوں میں خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی سمیت مختلف رہنماؤں نے اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات مانگی ہیں اور انہی کیسز میں حفاظتی ضمانت بھی طلب کی ہے۔
عدالتی بینچ میں جسٹس اعجاز انور، جسٹس محمد نعیم انور اور جسٹس محمد اعجاز خان شامل تھے۔ بینچ نے اگلی سماعت 20 اکتوبر 2026 مقرر کی اور واضح ہدایت دی کہ وکلا مکمل تیاری کے ساتھ آئیں، کیونکہ اب مزید مہلت نہیں دی جائے گی اور کیسز پر فیصلہ کیا جائے گا۔
درخواست گزاروں میں سہیل آفریدی، سابق وزیرِ اعلیٰ سردار علی امین گنڈاپور، ارکانِ قومی اسمبلی شیخ وقاص اکرم، شاندانہ گلزار، فیصل امین گنڈاپور، اسد قیصر، نسیم شاہ، یوسف خان اور شاہد خٹک، سینیٹرز مشال اظہر اور خرم ذیشان، صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی، سابق وزیر نورالحق قادری، وکیل نعیم حیدر پنجھوتہ اور سابق مشیرِ اعلیٰ ریٹائرڈ بریگیڈیئر مسعود عباسی سمیت دیگر شامل ہیں۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2035981/lawyers-given-last-chance-to-argue-bail-pleas-of-cm-afridi-others
عوامی اثرات
یہ معاملہ صرف ایک عدالت یا ایک جماعت تک محدود نہیں رہتا، کیونکہ جب کسی منتخب وزیرِ اعلیٰ اور درجنوں سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمات کی تفصیلات اور ضمانت کا سوال سامنے آئے تو اس کا سیاسی درجہ حرارت پورے صوبے میں بڑھ جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کے حامی اسے سیاسی دباؤ سے جوڑیں گے، جبکہ مخالفین اسے قانون کی کارروائی کے طور پر دیکھیں گے۔
ایسے فیصلوں کا اثر خیبر پختونخوا کی حکومت، اسمبلی کی سیاست، اور سڑکوں پر بننے والے بیانیے پر بھی پڑتا ہے۔ 20 اکتوبر کی سماعت اب اس بات کا امتحان ہوگی کہ عدالت میں وکلا کتنی مضبوطی سے مؤقف رکھتے ہیں اور کیسز کس سمت جاتے ہیں۔
عمل یا حل
اب اگلا مرحلہ 20 اکتوبر کی سماعت ہے، جہاں عدالت نے صاف کہہ دیا ہے کہ مزید وقت نہیں ملے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ فریقین کو مکمل تیاری کے ساتھ آنا ہوگا، کیونکہ اسی دن درخواستوں پر عملی پیش رفت یا فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔
عوامی سطح پر اصل سوال یہ ہے کہ سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمات کی تعداد، ان کی نوعیت اور ضمانت کے معاملات کتنے شفاف انداز میں آگے بڑھتے ہیں۔ اگر عدالتیں جلد اور واضح فیصلے دیں تو ابہام کم ہوگا، لیکن اگر تاریخیں ہی تاریخیں ملتی رہیں تو سیاسی کشیدگی اور بھی بڑھے گی۔ کیا یہ قانونی عمل ہے یا سیاسی محاذ آرائی کا ایک اور دور؟