مکمل تفصیلات

سان مارکوس یونیورسٹی کے نیچرل ہسٹری میوزیم کے مطابق پیرو کے اینڈیز میں چھپکلی کی ایک نئی قسم دریافت ہوئی ہے۔ یہ اعلان ہفتے کے روز کیا گیا۔ نئی چھپکلی جنوبی اینڈیئن علاقے آریکیپا میں 4,800 میٹر سے زیادہ بلندی پر ملی، جو انتہائی بلند اور پتھریلا علاقہ ہے۔ تحقیق کرنے والی ٹیم نے اس نوع کو Liolaemus archipensis کا نام دیا ہے۔

اس چھپکلی کی لمبائی 6 سے 8 سینٹی میٹر کے درمیان ہے۔ اس کی ظاہری ساخت نر اور مادہ میں مختلف ہے: ماداؤں کی پیٹھ پر مربع نما دھبے ہیں، جبکہ نروں پر ترچھے دھبے اور سفید چھلکے پائے جاتے ہیں، جو انہیں اپنے پتھریلے ماحول میں گھلنے ملنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے خوراک میں پودے اور چھوٹے آرتھروپوڈز شامل ہیں، جن میں مکڑیاں، بھونرے، سچے کیڑے اور حشراتی لاروے شامل ہیں۔

تحقیق کی قیادت کرنے والی ماہرِ حیاتیات لنگ ہوامانی-والدیراما نے اے ایف پی کو بتایا کہ نئی نوع کی تفصیل پیرو میں حیاتیاتی تنوع کے لیے ایک بہت اہم پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق پیرو میں چھپکلیوں کی 296 اقسام پائی جاتی ہیں۔ یہ دریافت سوئٹزرلینڈ کے سائنسی جریدے Diversity میں شائع ہوئی۔ اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2034523/peru-already-home-to-over-290-lizard-species-finds-a-new-one

عوامی اثرات

یہ خبر صرف ایک نئی چھپکلی تک محدود نہیں، بلکہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ دنیا کے بلند ترین اور مشکل جغرافیائی علاقوں میں بھی زندگی کی نئی شکلیں موجود ہو سکتی ہیں۔ پیرو جیسے ملک کے لیے ایسی دریافتیں قدرتی ورثے، ماحولیاتی تحقیق اور تحفظِ حیات کے حوالے سے بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ جب کسی علاقے میں نئی نوع سامنے آتی ہے تو اس سے سائنسدانوں کو اس کے رہن سہن، خوراک، افزائش اور ماحول سے تعلق کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔

عام لوگوں کے لیے بھی اس خبر کی اہمیت ہے کیونکہ یہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی ضرورت اجاگر کرتی ہے۔ اگر بلند پہاڑی علاقوں، چٹانی ڈھلانوں اور نازک ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا تو ایسی نایاب انواع ہمیشہ کے لیے غائب ہو سکتی ہیں۔ جنوبی امریکا کی یہ دریافت پاکستانی قارئین کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہمارے اپنے پہاڑی اور جنگلی علاقوں میں کتنی غیر دریافت شدہ زندگی موجود ہو سکتی ہے۔

عمل یا حل

اس دریافت سے واضح ہوتا ہے کہ فیلڈ ریسرچ، سائنسی درجہ بندی اور مقامی ماحولیاتی نگرانی کتنی ضروری ہے۔ جب کسی نئی نوع کی شناخت ہوتی ہے تو اگلا مرحلہ اس کے مسکن، آبادی، خطرات اور تحفظ کے طریقوں کا تعین ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر بعد میں ماحولیاتی پالیسی اور محفوظ علاقوں کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔

یہ معاملہ ایک بحث بھی کھولتا ہے: کیا حکومتیں اور یونیورسٹیاں ایسے دور دراز اور بلند علاقوں کی سائنسی کھوج کے لیے مزید وسائل دیں؟ اگر ہم اپنے قدرتی نظام کو سنبھالنا چاہتے ہیں تو نئی دریافتوں کو صرف خبر نہیں، تحفظ کی ذمہ داری بھی سمجھنا ہوگا۔ آپ کے خیال میں پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کو حیاتیاتی تنوع کی تحقیق پر کتنا زور دینا چاہیے؟