عوامی اثرات

پنجگور جیسے سیکیورٹی کے لحاظ سے اہم اور حساس علاقے میں عوام اور بالخصوص نوجوانوں کا یومِ دفاع کی ریلیوں میں سڑکوں پر نکلنا محض ایک روایتی تقریب نہیں بلکہ اس کے بلوچستان کی مجموعی سیاسی و سیکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ عوام کا یہ جوش و خروش واضح کرتا ہے کہ بلوچستان کا عام شہری امن، ملکی سلامتی اور دفاعی اداروں کے ساتھ کھڑے ہونے کی خواہش رکھتا ہے، جو کہ بعض منفی بیانیوں کی نفی کرتا ہے۔

دوسری جانب، قومی قیادت کی طرف سے پاک فضائیہ کی جدید جنگی حکمتِ عملی اور دفاعی استحکام کا اعتراف عام شہریوں میں تحفظ اور اعتماد کا احساس پیدا کرتا ہے۔ بلوچستان کے دور دراز علاقوں کو قومی دھارے اور دفاعی تقاریب سے جوڑنا عوامی جذبات کو مثبت سمت دینے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف ملکی یکجہتی مضبوط ہوتی ہے بلکہ دشمن عناصر کو بھی واضح پیغام ملتا ہے۔

عمل یا حل

صرف دفاعی ایام پر ریلیوں یا بیانات تک محدود رہنے کے بجائے حکومتی اور ریاستی سطح پر بلوچستان کے عوام، خصوصاً نوجوانوں کی مستقل سماجی و معاشی محرومیوں کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات لازمی ہیں۔ جب تک مقامی آبادی کو بنیادی سہولیات، روزگار اور فیصلے سازی میں شمولیت کا احساس نہیں دلایا جاتا، تب تک دفاعی دنوں کا یہ جذباتی لگاؤ پائیدار امن کی شکل اختیار نہیں کر سکے گا۔

ریاست اور میڈیا کو چاہیے کہ وہ دور دراز علاقوں میں بننے والی امن و یکجہتی کی ان کہانیوں کو ترجیحی بنیادوں پر اجاگر کریں تاکہ بدامنی پھیلانے والے بیانیے کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ملک کی سالمیت کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اب بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کی عوامی ریلیاں بلوچستان میں پائیدار امن کی ضامن بن سکیں گی یا اس کے لیے مزید سنجیدہ سیاسی اصلاحات کی ضرورت ہوگی؟