مکمل تفصیلات

پاکستان کی مردوں کی والی بال ٹیم نے اتوار کو Aichi-Nagoya Games میں اپنی مہم کا آغاز قازقستان کے خلاف 3-1 کی جیت سے کیا۔ میچ اوکازاکی چوؤ سوجو پارک جمنازیم میں Pool A کے تحت کھیلا گیا، جہاں پاکستان نے 25-16، 25-22، 17-25 اور 25-20 سے سیٹس اپنے نام کیے۔ پاکستان نے تیسرا سیٹ ہارنے کے بعد واپسی کی اور آخری سیٹ میں مقابلہ اپنے حق میں کر لیا۔

اس میچ میں مراد خان پاکستان کے سب سے نمایاں اسکورر رہے جنہوں نے 21 پوائنٹس بنائے، جن میں 17 کامیاب اسپائکس اور 4 بلاکس شامل تھے۔ عثمان فریاد علی نے 14، جہاں مراد نے 11 اور مسور خان نے 9 پوائنٹس دیے۔ پاکستان نے حملے میں مجموعی طور پر 92 پوائنٹس حاصل کیے جبکہ قازقستان 83 پوائنٹس تک محدود رہا۔ تاہم بلاکنگ میں پاکستان کو بہتری کی ضرورت رہی، کیونکہ قازقستان کے 10 بلاکس کے مقابلے میں پاکستان صرف 7 بلاکس کر سکا۔

اسی روز اسکواش کے ایک آل پاکستان پلے آف میں نور زمان نے اپنے ہم وطن محمد اشعب عرفان کو شکست دی۔ اس نتیجے کے ساتھ پاکستان کی میڈل تعداد بڑھ کر 4 کانسی کے تمغے ہو گئی۔

اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2033047/volleyball-win-brightens-mixed-day-for-pakistan-at-asian-games
تاریخ: اتوار، رپورٹ شائع: 2026-09-27 21:01 PKT
اگلا شیڈول: پیر کو ازبکستان کے خلاف میچ، اس کے بعد میزبان جاپان کے خلاف آخری گروپ میچ

عوامی اثرات

یہ جیت پاکستان کے لیے صرف ایک اسپورٹس نتیجہ نہیں، بلکہ قومی حوصلے کا معاملہ بھی ہے۔ ایشیائی سطح پر قازقستان جیسے مضبوط حریف کے خلاف 3-1 سے کامیابی یہ پیغام دیتی ہے کہ پاکستانی والی بال ٹیم دباؤ میں بھی مقابلہ سنبھال سکتی ہے اور گروپ مرحلے میں آگے بڑھنے کی امید برقرار ہے۔

دوسری طرف اسکواش میں دو پاکستانی کھلاڑیوں کا آمنا سامنا اس بات کی علامت ہے کہ ملک کے اندر مقابلہ بھی مضبوط ہے، یعنی میڈل کی دوڑ میں پاکستانی نام خود ایک دوسرے کے سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے نتائج نوجوانوں کے لیے بھی حوصلہ بنتے ہیں کہ محنت سے عالمی سطح پر جگہ بنائی جا سکتی ہے۔

عمل یا حل

اب اصل امتحان باقی ہے۔ پاکستان کو پیر کے روز ازبکستان کے خلاف اسی رفتار، بہتر بلاکنگ اور مستقل اسکورنگ کے ساتھ اترنا ہوگا، کیونکہ گروپ مرحلے میں اگلا بڑا چیلنج میزبان جاپان ہے۔ اگر ٹیم حملے کی یہی قوت برقرار رکھے اور دفاعی کمزوریاں کم کرے تو آگے بڑھنے کے امکانات مضبوط ہو سکتے ہیں۔

یہ موقع ایک وسیع سوال بھی اٹھاتا ہے: کیا پاکستان کھیلوں میں صرف وقتی خوشی پر اکتفا کرے گا، یا والی بال اور اسکواش جیسے شعبوں میں مستقل سرمایہ کاری کرے گا؟ جب کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر نتائج دے رہے ہیں تو نظام کو بھی ان کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے۔