عوامی اثرات

اس فیصلے کے براہِ راست اثرات ملک کے اس متوسط اور غریب طبقے پر پڑ رہے ہیں جو زندگی بھر پائی پائی جوڑ کر صرف ایک بار اللہ کے گھر کی زیارت کا خواب دیکھتا ہے۔ روپے کی گرتی ہوئی قدر اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی وجہ سے فضائی سفر کا خرچہ پہلے ہی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے، اور اب اس قسم کی نئی ڈیجیٹل اور کاغذی شرائط نے زائرین کے لیے ذہنی اور مالی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ دیہی اور کم پڑھے لکھے علاقوں سے تعلق رکھنے والے عمر رسیدہ زائرین جو نادرا کے پیچیدہ آن لائن نظام سے ناواقف ہیں، انہیں اب ایجنٹوں کے رحم و کرم پر ہونا پڑے گا جو نادرا تصدیق کے نام پر اضافی رقم بٹور سکتے ہیں۔

عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ ایک طرف تو شدید معاشی بحران نے شہریوں کا جینا محال کر رکھا ہے اور دوسری طرف مذہبی فرائض کی ادائیگی کی راہ میں بھی انتظامی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ لوگ اس بات پر سخت مایوس ہیں کہ ریاست زائرین کو ریلیف اور سہولیات فراہم کرنے کے بجائے ان پر مزید کاغذی بوجھ ڈال رہی ہے، جس کی وجہ سے مڈل کلاس طبقے کے لیے اب عمرہ کرنا محض ایک ادھورا خواب بنتا جا رہا ہے۔

عمل یا حل

اس صورتحال کا فوری حل یہ ہے کہ حکومت اور نادرا مل کر عمرہ زائرین کے لیے ایک انتہائی آسان، مفت اور فوری تصدیقی نظام متعارف کروائیں۔ ضلعی سطح پر خصوصی ہیلپ ڈیسک قائم کیے جانے چاہئیں جہاں بوڑھے اور ان پڑھ زائرین کو بغیر کسی خواری یا رشوت کے فوری طور پر نادرا سے منسلک ویکسینیشن سرٹیفکیٹ جاری کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ، وزارتِ مذہبی امور کو ٹریول ایجنٹوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے تاکہ وہ نادرا تصدیق کی آڑ میں معصوم شہریوں کو لوٹ نہ سکیں۔

میڈیا اور عوامی نمائندوں کو بھی اس سنجیدہ مسئلے پر آواز اٹھانی چاہیے تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ زائرین کے لیے سفر کو آسان بنائے۔ کیا ہماری حکومت کو زائرین کے لیے اس ڈیجیٹل عمل کو مزید آسان نہیں بنانا چاہیے تھا؟ کیا مڈل کلاس پاکستانیوں کے لیے اب عمرہ کرنا واقعی ناممکن بنا دیا گیا ہے؟ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں ضرور کریں۔