عوامی اثرات

اس سائنسی انکشاف کا براہِ راست اثر پاکستان کے ساحلی علاقوں میں بسنے والے لاکھوں ماہی گیروں اور عام شہریوں پر پڑتا ہے۔ کراچی کے ساحلوں پر روزانہ ٹنوں کے حساب سے گرنے والا صنعتی فضلہ اور گٹر کا غیر فلٹر شدہ پانی ان پلینکٹنز کو تیزی سے تباہ کر رہا ہے، جس سے سمندر میں مچھلیوں کا قحط پیدا ہو رہا ہے۔ غریب ماہی گیر، جو نسلوں سے اس پیشے سے وابستہ ہیں، اب خالی ہاتھ لوٹنے پر مجبور ہیں کیونکہ سمندری خوراک کا بنیادی ذریعہ ہی ختم ہو رہا ہے۔

دوسری طرف، یہ بحران صرف ماہی گیروں تک محدود نہیں ہے۔ سمندری آلودگی کے باعث مچھلیوں میں زہریلے اثرات سرایت کر رہے ہیں، جو بالآخر کراچی اور دیگر شہروں کے شہریوں کی پلیٹوں تک پہنچتے ہیں۔ اگر حکومت اور مقتدر حلقوں نے اس ماحولیاتی تباہی کو نہ روکا تو پاکستان نہ صرف اپنی مچھلیوں کی برآمدات (Exports) سے محروم ہو جائے گا بلکہ ملک میں سستی پروٹین کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا، جو پہلے ہی شدید معاشی بحران کا شکار عوام کے لیے ایک نیا عذاب ہوگا۔

عمل یا حل

اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے سندھ حکومت، کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) اور وفاقی وزارتِ بحری امور کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے۔ سب سے پہلے کراچی کے صنعتی علاقوں سے نکلنے والے زہریلے پانی کو سمندر میں گرانے سے پہلے ٹریٹمنٹ پلانٹس کے ذریعے صاف کرنا قانونی طور پر لازمی قرار دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ساحلی علاقوں کی صفائی اور ماہی گیروں کو جدید آلات کی فراہمی کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سمندری ماحولیاتی نظام کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔

میڈیا اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو بھی روایتی سیاسی بحثوں سے ہٹ کر اس بقا کے مسئلے پر آواز اٹھانی ہوگی۔ اگر اب بھی خاموشی اختیار کی گئی تو ہمارے ساحل صرف گندگی کا ڈھیر بن کر رہ جائیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں: کیا ہم اپنے عارضی صنعتی فائدے کے لیے پاکستان کے سمندری مستقبل کو قربان کر دیں گے، یا پھر سخت قوانین نافذ کر کے اپنی آنے والی نسلوں کو ایک صاف اور زندہ سمندر تحفے میں دیں گے؟