عوامی اثرات

پاکستان کے کروڑوں گھرانوں کو متاثر کرنے والا یہ نیوٹریشن بحران محض ایک رپورٹ نہیں، بلکہ قوم کی بقا کا مسئلہ ہے۔ جب بچے کو ابتدائی عمر میں بنیادی غذائیت نہیں ملتی، تو اس کی دماغی اور جسمانی صلاحیتیں ہمیشہ کے لیے متاثر ہو جاتی ہیں۔ معاشی تنگدستی اور تاریخی مہنگائی کے دور میں ایک عام پاکستانی شہری کے لیے اپنے بچوں کو متوازن غذا فراہم کرنا ناممکن بن چکا ہے، جس کا براہ راست اثر بچوں کی تعلیمی اور جسمانی صلاحیتوں پر پڑ رہا ہے۔

اس سنگین صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اسے ماضی میں سیاسی ترجیح ہی نہیں سمجھا گیا۔ حکمران طبقے کی جانب سے ناقص پالیسیاں اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث غریب اور درمیانے طبقے کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ عوام میں اس بات کا شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے کہ میگا پروجیکٹس پر اربوں روپے بہا دیے جاتے ہیں، لیکن بچوں کی بنیادی خوراک اور صحت کے لیے حکومت کے پاس وسائل نہیں ہیں۔

عمل یا حل

اس المیے کا حل محض وقتی امدادی راشن تقسیم کرنے میں نہیں، بلکہ ایک جامع اور پائیدار قومی نیوٹریشن پالیسی تشکیل دینے میں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نجی شعبے کے ساتھ مل کر فورٹیفائیڈ یعنی غذائیت سے بھرپور بنیادی اشیائے خورونوش عام مارکیٹ میں ارزاں نرخوں پر فراہم کرے۔ سکولوں میں بچوں کے لیے مفت غذائی پروگرام اور دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کے مراکز کے ذریعے وٹامنز کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔

اس کے ساتھ ساتھ پینے کے صاف پانی اور سینیٹیشن کے نظام کو بہتر بنانا لازمی ہے تاکہ بیماریاں بچوں کی غذائیت کو ضائع نہ کریں۔ میڈیا اور معالجین کو بھی مل کر غذائی اہمیت پر آگاہی مہم چلانی ہوگی۔ کیا ہمارے حکمران اینٹوں اور سڑکوں کی سیاست چھوڑ کر بچوں کی صحتمند نشوونما پر توجہ دیں گے؟ اپنی رائے کمنٹس میں دیں۔