مکمل تفصیلات
جمعرات کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ موہسن نقوی نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل Antonio Guterres سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی شریک تھے۔ گفتگو میں عالمی اور علاقائی صورتحال، امن دستوں کے مشنز اور پاکستان کے کردار پر بات ہوئی۔
موہسن نقوی نے سیکرٹری جنرل کو بتایا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک عالمی جنگ لڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان میں 25 دہشت گرد تنظیمیں فعال ہیں، جو صرف خطے نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن دستوں میں اپنا کردار جاری رکھے گا، اور پاکستانی اہلکار اقوامِ متحدہ پولیس میں بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
موہسن نقوی نے بتایا کہ امن مشنز کے دوران 181 پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں۔ دوسری جانب Antonio Guterres نے پاکستان کی امن مشنز میں شرکت کو نمایاں اور قابلِ تحسین قرار دیا اور کہا کہ دنیا کے امن میں پاکستان کا کردار ستائش کے قابل ہے۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2035641/pakistan-waging-global-war-against-terrorism-naqvi-tells-un-chief-on-last-day-of-his-visit
عوامی اثرات
یہ بیان پاکستان کی سلامتی، خطے کی سیاست اور عالمی سفارت کاری تینوں پر اثر ڈالتا ہے۔ جب وفاقی وزیر داخلہ کھلے لفظوں میں افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور عالمی خطرے کی بات کرتے ہیں، تو اس کا مطلب صرف ایک سفارتی نکتہ نہیں بلکہ پاکستان کے اندر سیکیورٹی خدشات کی بھی نشاندہی ہے۔
عام پاکستانیوں کے لیے اس خبر کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ دہشت گردی کا دباؤ سرحدی علاقوں، داخلی امن، معیشت اور روزمرہ زندگی تک پہنچتا ہے۔ دوسری طرف اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے امن مشنز کا ذکر ملک کے اس کردار کو اجاگر کرتا ہے جس میں پاکستانی اہلکار دنیا بھر میں امن قائم رکھنے کے لیے قربانیاں دیتے رہے ہیں۔ 181 جانوں کی قربانی اس معاملے کو صرف سرکاری بیان نہیں رہنے دیتی، بلکہ قومی سطح پر جذباتی اور اخلاقی وزن بھی دیتی ہے۔
عمل یا حل
اس خبر سے ایک سوال پھر سامنے آتا ہے: اگر دہشت گردی واقعی عالمی مسئلہ ہے تو کیا عالمی طاقتیں صرف بیانات تک محدود رہیں گی یا عملی تعاون بھی کریں گی؟ موہسن نقوی کا مؤقف واضح ہے کہ خطرہ سرحدوں سے بڑا ہو چکا ہے، اس لیے ردِعمل بھی مشترکہ ہونا چاہیے۔
پاکستان کے لیے اگلا مرحلہ یہی ہے کہ وہ اپنے سفارتی مؤقف کو مزید مضبوط کرے، امن مشنز میں اپنی شمولیت جاری رکھے، اور عالمی فورمز پر دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ٹھوس تعاون کا مطالبہ دہرائے۔ عوامی سطح پر بھی یہ بحث اہم ہے کہ پاکستان قربانیاں دے کر کس قیمت پر امن کی بات کر رہا ہے، اور دنیا اس قربانی کو کتنی سنجیدگی سے لیتی ہے۔