عوامی اثرات
اس ناقص پالیسی کا براہ راست نقصان عام پاکستانی صارفین اور ملکی معیشت کو پہنچے گا۔ پاکستان اس وقت بدترین فضائی آلودگی اور اسموگ کی لپیٹ میں ہے، جبکہ دوسری طرف پٹرولیم مصنوعات کے بھاری امپورٹ بل نے معیشت کی کمر توڑ رکھی ہے۔ عوام کو امید تھی کہ نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی کے تحت سستی اور ماحول دوست بیٹریاں سڑکوں پر آئیں گی جس سے پٹرول کا خرچہ ختم ہوگا، لیکن حکومت نے ہائبرڈ گاڑیوں کو یکساں ٹیکس چھوٹ دے کر عوام کے بجائے بڑے آٹو مینوفیکچررز کے مفادات کو ترجیح دی ہے۔
ہائبرڈ گاڑیاں بنیادی طور پر پٹرول پر ہی چلتی ہیں اور ان کا ماحولیاتی فائدہ برائے نام ہے۔ جب سرمایہ کاروں اور اسمبلرز کو ہائبرڈ کاریں بیچ کر ہی وہی ٹیکس چھوٹ مل جائے گی، تو وہ ملک میں چارجنگ اسٹیشنز کا نیٹ ورک قائم کرنے یا حقیقی الیکٹرک گاڑیاں متعارف کروانے میں کوئی دلچسپی نہیں لیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی عوام کو مستقبل میں بھی مہنگے پٹرول پر انحصار کرنا پڑے گا اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کوئی کمی نہیں آئے گی، جبکہ چند مخصوص کمپنیاں گرین ٹیکنالوجی کے نام پر اربوں روپے کا منافع سمیٹتی رہیں گی۔
عمل یا حل
اس بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کو فوری طور پر اپنی ترجیحات درست کرنی ہوں گی۔ وزارت صنعت و پیداوار اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ پلگ ان ہائبرڈ (PHEV) اور مکمل الیکٹرک وہیکلز (BEV) کے درمیان مراعات کا واضح فرق پیدا کریں۔ مکمل طور پر بیٹری پر چلنے والی گاڑیوں کو زیادہ ٹیکس ریلیف دیا جانا چاہیے تاکہ سرمایہ کار ملک بھر میں چارجنگ انفراسٹرکچر قائم کرنے پر مجبور ہوں، جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں پر مراعات کو بتدریج کم کیا جائے کیونکہ وہ پٹرول کی کھپت کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتیں۔
ساتھ ہی، حکومت کو ماضی کی پالیسیوں سے سبق سیکھتے ہوئے آٹو اسمبلرز پر سخت شرائط عائد کرنی چاہئیں تاکہ وہ مراعات حاصل کرنے کے بعد پرزوں کی مقامی سطح پر تیاری کو یقینی بنائیں۔ اگر اب بھی پالیسی میں یہ سقم دور نہ کیا گیا تو پاکستان کبھی بھی دنیا کے ساتھ الیکٹرک گاڑیوں کی دوڑ میں شامل نہیں ہو سکے گا۔ کیا حکومت واقعی ملک کو ماحولیاتی اور معاشی بحران سے نکالنا چاہتی ہے، یا یہ پالیسی صرف چند بااثر کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے تیار کی گئی ہے؟