مکمل تفصیلات

پاکستان کے دو پائلٹس، زیشان علی اور خرم داؤد، اس وقت چین کے دارالحکومت بیجنگ میں China Astronaut Research and Training Center میں خلا بازانہ تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ دونوں Mandarin زبان سیکھ رہے ہیں، centrifuge drills کر رہے ہیں، اور یہ بھی سیکھ رہے ہیں کہ صفر کششِ ثقل میں کھانا کیسے کھایا جائے، کیسے نیند لی جائے اور خراب ہونے والے آلات کی مرمت کیسے کی جائے۔

یہ تربیت اس مشن کے لیے ہے جس میں ان میں سے ایک کو چین کے Tiangong space station پر بھیجا جا سکتا ہے۔ اگر یہ پرواز ہوتی ہے تو یہ پاکستان کے لیے پہلی بار ہوگا کہ کوئی شہری خلا میں جائے۔ یہ منصوبہ پاکستان اور چین کے درمیان 2019 میں طے ہونے والے human spaceflight cooperation کا نتیجہ ہے۔ Suparco میں اس تعاون کی نگرانی کرنے والے Amer Gilani کے مطابق حتمی انتخاب کا فیصلہ جلد متوقع ہے، تاہم چین نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ کون اڑان بھرے گا اور کب۔

یہ پیش رفت پاکستان اور چین کی وسیع خلائی شراکت داری کا حصہ بھی ہے، جس میں چین کے ذریعے پاکستانی سیٹلائٹس، ایک مشترکہ سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم، اور پاکستان میں تیار کیا گیا rover شامل ہے جو چین کے Chang’e 8 lunar mission کے ساتھ تقریباً 2028 میں روانہ ہونے والا ہے۔

اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2033244/chinas-space-diplomacy-lifts-pakistani-astronaut-toward-orbit

عوامی اثرات

یہ خبر صرف ایک پائلٹ یا ایک خلائی پرواز کی نہیں، بلکہ پاکستان کی سائنسی شناخت اور قومی وقار سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر پاکستانی خلاباز واقعی Tiangong space station تک پہنچتا ہے تو یہ ملک کے لیے ایک نئی تاریخ ہوگی، جس سے نوجوانوں کو یہ پیغام ملے گا کہ پاکستان صرف زمینی مسائل تک محدود نہیں، بلکہ بڑے سائنسی میدانوں میں بھی جگہ بنا سکتا ہے۔

عوامی سطح پر اس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ پیش رفت پاکستان اور چین کے باہمی اعتماد، تکنیکی تعاون اور مستقبل کی خلائی معیشت میں پاکستان کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔ سیٹلائٹس، نیویگیشن اور چاند مشن جیسے منصوبے عام لوگوں کے لیے براہِ راست نظر نہیں آتے، مگر ان کے اثرات مواصلات، نقشہ سازی، دفاع، اور قومی ٹیکنالوجی صلاحیت پر پڑتے ہیں۔

عمل یا حل

اب اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اس موقع کو صرف خبر بنا کر چھوڑ دیتا ہے یا اسے ایک مستقل قومی خلائی پروگرام میں بدلتا ہے۔ اگر حتمی انتخاب پاکستانی پائلٹ میں سے کسی ایک کے حق میں ہوتا ہے تو حکومت، Suparco اور تعلیمی اداروں کو اس کو رول ماڈل بنا کر سائنس، انجینئرنگ اور ایرو اسپیس تعلیم میں سرمایہ کاری بڑھانی چاہیے۔

یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایسے بین الاقوامی مشنز کے بعد پاکستان اپنے نوجوانوں کے لیے کیا راستہ کھولتا ہے: مزید تربیت، مزید تحقیق، اور زیادہ شفاف منصوبہ بندی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک خلاباز پر خوشی منا کر رک جائیں گے، یا اس کامیابی کو ایک بڑی قومی سائنسی پالیسی میں بدلیں گے؟