مکمل تفصیلات
ترکیہ 23 اکتوبر کو استنبول میں وزرائے خارجہ کی دو سطحی ملاقاتوں کی میزبانی کرے گا: ایک R-4 فارمیٹ اور دوسری R-4+E-3 فارمیٹ۔ ترک وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو بتایا کہ یہ اجلاس استنبول میں ہوگا۔ R-4 گروپ میں پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ شامل ہیں، اور یہ گروپ مارچ میں سامنے آیا تھا۔ اس گروپ کی توجہ خطے کی سلامتی اور امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں پر رہی ہے۔
E-3 گروپ میں فرانس، برطانیہ اور جرمنی شامل ہیں۔ یہ یورپی تین ملکی گروپ 20 سال سے زائد عرصہ قبل ایران کے جوہری پروگرام پر سفارتی رابطہ کاری کے لیے بنایا گیا تھا۔ ایک ترک سفارتی ذریعے نے Reuters کو بتایا کہ ساتوں ممالک پہلی بار R-4+E-3 فارمیٹ میں ترکیہ کی پہل پر ملیں گے، کیونکہ ایران، یمن اور یوکرین سے جڑی جنگیں بحری راستوں اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔
اجلاس میں اسرائیل-فلسطین صورتحال، آبنائے ہرمز/Strait کی تازہ صورتِ حال اور خطے میں بڑھتی کشیدگی پر بات ہونے کی توقع ہے۔ اسلام آباد میں دفترِ خارجہ نے ابھی تک اس منصوبہ بند اجلاس یا نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی شرکت کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2039053/pakistan-egypt-saudi-arabia-turkiye-to-meet-european-trio-in-istanbul
عوامی اثرات
یہ اجلاس پاکستان کے لیے اس لیے اہم ہے کہ ایسے سفارتی فورمز میں شرکت سے اسلام آباد کو مشرقِ وسطیٰ، ایران، اسرائیل-فلسطین تنازع اور بحری تجارت سے جڑے بڑے معاملات پر اپنی پوزیشن واضح کرنے کا موقع ملتا ہے۔ جب خطے میں جنگیں اور کشیدگی بڑھتی ہیں تو اس کا اثر صرف سفارتی نقشے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ تیل، تجارت، سمندری راستوں اور مجموعی علاقائی استحکام پر بھی پڑتا ہے۔
پاکستانی عوام کے لیے بھی یہ خبر اہم ہے کیونکہ عالمی سطح پر ہونے والی ایسی ملاقاتیں بالواسطہ طور پر قیمتوں، سفری راستوں، علاقائی امن اور پاکستان کے سفارتی وزن پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ اگر یہ فارمولا کامیاب رہتا ہے تو پاکستان کو ایک ایسے پلیٹ فارم پر جگہ مل سکتی ہے جہاں بحران کم کرنے، رابطہ کاری بڑھانے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی بات ہو رہی ہے۔
عمل یا حل
اب اگلا مرحلہ یہ ہوگا کہ آیا پاکستان اس اجلاس میں باضابطہ طور پر شامل ہوتا ہے یا نہیں، اور اگر شامل ہوتا ہے تو اس کی ترجیح کیا ہوگی: علاقائی سلامتی، غزہ/اسرائیل-فلسطین، ایران سے جڑی سفارت کاری، یا بحری راستوں کی حفاظت۔ چونکہ دفترِ خارجہ نے ابھی تک موقف نہیں دیا، اس لیے اصل توجہ اب اسلام آباد کے ردعمل اور اسحاق ڈار کی شرکت یا عدم شرکت پر ہوگی۔
یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ترکیہ کی اس سفارتی کوشش سے کوئی مشترکہ لائحۂ عمل نکلتا ہے یا نہیں۔ کیا یہ اجلاس صرف ایک علامتی ملاقات رہے گا، یا واقعی خطے کے بڑے تنازعات پر کوئی مشترکہ سمت بنے گی؟ یہی وہ سوال ہے جو آنے والے دنوں میں اس خبر کو مزید اہم بنا دے گا۔