عوامی اثرات
پاکستان کے عوام کے لیے پینے کا صاف پانی اب کوئی بنیادی حق نہیں بلکہ ایک مہنگی ترین شے بن چکا ہے۔ ڈان نیوز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، ملک میں پٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کے بجٹ کو بری طرح نچوڑ دیا ہے، جس کا براہ راست اثر پانی کے مقامی فلٹریشن پلانٹس کی بندش کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ جب ایندھن اور بجلی مہنگی ہوتی ہے، تو صاف پانی فراہم کرنے والے نجی اور سرکاری پلانٹس غیر فعال ہو جاتے ہیں، جس سے عوام گندا اور زہریلا زیرِ زمین پانی پینے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو ہیپاٹائٹس، ٹائیفائیڈ اور دیگر مہلک بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔
پاکستانی عوام جو پہلے ہی صحت کی ناقص سہولیات اور اینٹی بائیوٹک مزاحمت (Superbugs) جیسے خوفناک مسائل سے نبردآزما ہیں، ان کے لیے یہ نئی سائنسی دریافت ایک معجزے سے کم نہیں۔ سوشل میڈیا پر اس موضوع پر ہونے والی گرما گرم بحث یہ ثابت کرتی ہے کہ لوگ اب روایتی نعروں کے بجائے عملی اور سائنسی حل دیکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم، سب سے بڑا عوامی خدشہ یہ ہے کہ کیا یہ جدید ٹیکنالوجی کبھی پاکستان کے غریب ترین علاقوں اور دیہاتوں تک پہنچ پائے گی، یا پھر یہ بھی ماضی کے دیگر فلاحی منصوبوں کی طرح صرف اشرافیہ کے بنگلوں اور فائلز تک ہی محدود رہے گی؟
عمل یا حل
اس سنگین بحران کا حل اب روایتی واٹر فلٹرز میں نہیں بلکہ جدید بائیو ٹیکنالوجی اور سائنسی شراکت داری میں چھپا ہے۔ حکومتِ پاکستان اور وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کو چاہیے کہ وہ عالمی تحقیقی اداروں کے ساتھ مل کر کوبالٹ اور گرافین ٹیکنالوجی کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فنڈز مختص کریں۔ جب تک ہم پانی کی صفائی کے لیے سستے اور مقامی متبادل تیار نہیں کریں گے، تب تک مہنگائی کے اس کچلنے والے دور میں صاف پانی کی فراہمی ایک ناممکن خواب ہی رہے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ، حکومت کو فوری طور پر تمام فعال فلٹریشن پلانٹس کو سولر انرجی پر منتقل کرنا چاہیے تاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا بوجھ پانی کی سپلائی پر نہ پڑے۔ میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی سیاسی دنگل سے ہٹ کر پینے کے صاف پانی جیسے بقا کے بنیادی مسائل پر حکمرانوں کا گھیراؤ کرنا ہوگا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے یہ سوال پوچھیں: کیا ہمارے پالیسی ساز عوام کو صاف پانی فراہم کرنے جیسے بنیادی آئینی حق پر توجہ دیں گے، یا عوام یونہی آلودہ پانی پی کر خاموشی سے بیماریوں کا شکار ہوتے رہیں گے؟ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔