عوامی اثرات
اس خبر نے پاکستان کے عام شہریوں، خاص طور پر متوسط اور محنت کش طبقے میں شدید تشویش اور بے چینی پھیلا دی ہے۔ کراچی، لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں رہنے والے کروڑوں افراد پہلے ہی ہر سال غیر معمولی سموگ، شدید ہیٹ ویو اور بارشوں کے بعد تباہ کن شہری سیلاب کا عذاب جھیل رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں ماحولیاتی بیماریوں کے مریضوں کا ہجوم بڑھ رہا ہے اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہونے سے روزانہ کی دہاڑی دار عوام کا چولہا ٹھنڈا ہو جاتا ہے، جس سے ذہنی اور معاشی تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سیاسی اور سماجی منظرنامے پر یہ رپورٹ حکمرانوں کی برسوں پر محیط نااہلی اور ناکام منصوبہ بندی کا صریح ثبوت بن کر سامنے آئی ہے۔ غیر قانونی تعمیرات، درختوں کا بے دریغ کٹائی اور نالوں پر قبضوں نے شہروں کو ماحولیاتی بم بنا دیا ہے۔ عوام میں یہ غصہ تیزی سے پنپ رہا ہے کہ اربوں روپے کے ٹیکس وصول کرنے کے باوجود انتظامیہ شہروں کو کسی بھی ناگہانی آفت سے بچانے کے قابل کیوں نہیں بنا سکی۔
عمل یا حل
اس بھیانک بحران پر قابو پانے کے لیے روایتی کاغذی کارروائیوں کے بجائے فوری ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات کرنا ہوں گی۔ بلدیاتی اداروں اور اربن پلانرز کو چاہیے کہ وہ شہروں میں 'گرین انفراسٹرکچر' کو فروغ دیں، نالوں کی صفائی کے مستقل نظام اور پانی کی ناسی کے جدید طریقے اپنائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ہوگا تاکہ کسی بھی ممکنہ آفت سے قبل شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور معاشی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔
میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی محض الزام تراشی کے بجائے حکومت کو ٹھوس اقدامات پر مجبور کرنا ہوگا۔ اگر انتظامیہ نے اب بھی اس انتباہ کو نظر انداز کیا تو آنے والے سالوں میں ہمارے شہر رہنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ کیا ہمارے حکمران اگلی بڑی تباہی کے بعد جاگیں گے یا وقت رہتے شہروں کی بحالی کے لیے کوئی بڑا قدم اٹھائیں گے؟