عوامی اثرات

پاکستان میں دودھ، مکھن اور گھی کو ہمیشہ سے طاقت اور بہترین صحت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز اور حالیہ رپورٹس نے عوام میں شدید خوف و ہراس اور بحث چھیڑ دی ہے۔ کینسر کا بڑھتا ہوا بوجھ براہِ راست غریب اور متوسط طبقے کو متاثر کر رہا ہے، جہاں مہنگا علاج عام شہری کی پہنچ سے بالکل باہر ہے۔ روایتی غذاؤں میں مضرِ صحت اجزاء، کھلے دودھ میں کیمیکلز (جیسے فارمالین اور یوریا) کی ملاوٹ، اور فصلوں پر زہریلی ادویات کا بے دریغ استعمال اب شہریوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔

اس صورتحال نے عوام کے روایتی طرزِ زندگی اور غذائی عادات پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عوام اب الجھن کا شکار ہیں کہ وہ روزمرہ کے استعمال کی کن اشیاء پر بھروسہ کریں۔ دودھ، جو بچوں کی نشوونما کے لیے بنیادی غذا ہے، اب شدید شک و شبہات کی زد میں ہے۔ یہ تشویشناک صورتحال عوام میں حکومت اور پنجاب و دیگر صوبائی فوڈ اتھارٹیز کے خلاف شدید غصے کو جنم دے رہی ہے، کیونکہ معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

عمل یا حل

اس سنگین ہیلتھ ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو فوری طور پر فوڈ ریگولیشن کے قوانین کو مزید سخت کرنا ہوگا۔ کینسر سے بچاؤ کی قومی پالیسی کے تحت نہ صرف ہسپتالوں کی حالت زار بہتر بنانا ہوگی بلکہ خوراک کی جانچ کے نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔ مارکیٹ میں فروخت ہونے والے کھلے دودھ کی سخت مانیٹرنگ اور افلاٹوکسن (Aflatoxins) جیسے کینسر پیدا کرنے والے زہروں کی جانچ کے لیے لیبارٹری ٹیسٹنگ کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

عوام کو بھی اپنی روایتی غذائی عادات میں شعوری تبدیلی لانی ہوگی۔ غیر تصدیق شدہ اور سستے ملاوٹ شدہ کھلے دودھ کے بجائے مستند اور پاسچرائزڈ ذرائع کا انتخاب کریں اور اپنی خوراک میں پھلوں اور سبزیوں کا تناسب بڑھائیں۔ میڈیا اور سول سوسائٹی کو کینسر کے اس خاموش قاتل کے خلاف ملک گیر آگاہی مہم چلانی چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے سوال کریں: کیا ہم صحت کے نام پر اپنے خاندان کو زہر پلا رہے ہیں؟ حکومت اس ملاوٹ مافیا کے خلاف کب فیصلہ کن کارروائی کرے گی؟