مکمل تفصیلات

خیبر کے ضلع باڑہ کے بالائی علاقے میں واقع ننگروسا گاؤں کے رہائشیوں نے بتایا ہے کہ سورانخیل، جو سپاہ قبیلے کی ایک ذیلی شاخ ہے، کے 300 سے زائد خاندان اب بھی اپنے گھروں کی بحالی کے لیے سرکاری امداد کے منتظر ہیں۔ ان کے مطابق یہ لوگ 2022 میں واپس اپنے گھروں میں آ گئے تھے، مگر تباہ شدہ مکانات کا سرکاری نقصان سروے آج تک مکمل نہیں ہوا۔ اسی وجہ سے متاثرہ خاندانوں کو نہ تو معاوضہ ملا ہے اور نہ ہی تعمیرِ نو کے لیے واضح حکومتی سہارا دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مقامی لوگوں نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) اور خیبر کی ضلعی انتظامیہ سے متعدد بار اپیلیں کیں، لیکن کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا۔ اس تاخیر سے تنگ آ کر کچھ خاندان آنے والی سخت سردی کے پیشِ نظر اپنی مدد آپ کے تحت گھروں کی مرمت شروع کر چکے ہیں۔

تاریخی پس منظر کے طور پر رہائشیوں نے بتایا کہ ننگروسا وادی کو 2012 کے اوائل میں خالی کرا لیا گیا تھا، جب کالعدم شدت پسند تنظیم لشکرِ اسلام نے تیراہ وادی کے بیشتر حصوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

تاریخ: خبر 20 ستمبر 2026، 16:14 PKT کو شائع ہوئی۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2031191/hundreds-of-bara-families-need-assistance-to-rebuild-houses

عوامی اثرات

یہ معاملہ صرف چند گھروں کی مرمت کا نہیں، بلکہ ان خاندانوں کی واپسی، تحفظ اور بنیادی بحالی کا سوال ہے جو برسوں کی بے دخلی کے بعد اپنے علاقے میں لوٹے مگر ابھی تک سرکاری امداد کے منتظر ہیں۔ جب سروے ہی مکمل نہ ہو تو متاثرہ لوگ نہ نقصان کے ازالے کے قابل رہتے ہیں اور نہ ہی موسم کی مار سے بچنے کے لیے بروقت تعمیر کر پاتے ہیں۔

بالا باڑہ جیسے حساس علاقوں میں تاخیر براہِ راست عوامی اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔ سردیوں سے پہلے چھت، دیوار اور سامان کی بحالی نہ ہو تو بچے، خواتین اور بزرگ سب زیادہ خطرے میں آتے ہیں۔ ایسے حالات میں سرکاری کارروائی کی سست رفتاری مقامی لوگوں کو خود کفالت کے نام پر اپنی جیب سے خرچ کرنے پر مجبور کر دیتی ہے، جو غریب خاندانوں کے لیے مزید بوجھ بنتا ہے۔

عمل یا حل

اس صورتحال کا فوری حل یہ ہے کہ PDMA اور ضلعی انتظامیہ متاثرہ بستی کا سروے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں، نقصانات کی تصدیق کریں اور اہل خاندانوں کو بحالی پیکج تک رسائی دیں۔ اگر واقعی 300 سے زائد گھر متاثر ہیں تو امداد میں تاخیر مزید بے چینی، ہجرت اور موسمی نقصان کو بڑھا سکتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ جب لوگ 2022 میں واپس آ چکے ہیں تو ان کے گھروں کا سروے اب تک کیوں التوا میں ہے؟ کیا متاثرہ خاندانوں کو ہر بار خود ہی تعمیر شروع کرنی پڑے گی، یا انتظامیہ بروقت قدم اٹھا کر اعتماد بحال کرے گی؟