مکمل تفصیلات

عمانی وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی نے بدھ کے روز اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق انہوں نے پاکستان کی ان سفارتی کوششوں کو سراہا جو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مسائل کے پرامن حل کی طرف مرکوز ہیں۔ یہ ملاقات ان کے پاکستان کے دو روزہ دورے کے دوسرے دن ہوئی۔

دورے کے دوران البوسعیدی نے پاکستان-عمان مشترکہ وزارتی کمیشن (JMC) کے آٹھویں اجلاس میں شرکت کی اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی ملاقات کی۔ خبر کے مطابق پاکستان اور عمان دونوں خطے میں ڈی-ایسکلیشن کے لیے سرگرم ہیں، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ ایران پر امریکی-اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی مشرقِ وسطیٰ میں مزید پھیل چکی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات میں پاکستان اور عمان کے درمیان مضبوط رشتے کو مشترکہ عقیدہ، جغرافیہ، تاریخ، ثقافت اور صدیوں پر پھیلے عوامی روابط سے جوڑا۔

تاریخ: بدھ، 15 اکتوبر 2026
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2037082/omani-fm-meets-pm-shehbaz-commends-pakistans-sustained-diplomatic-efforts-for-regional-peace

عوامی اثرات

یہ خبر صرف ایک سفارتی ملاقات نہیں بلکہ پاکستان کے لیے خطے میں امن کے بیانیے کو مضبوط کرنے کا معاملہ ہے۔ جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچتے ہیں: سفارتی دباؤ، معاشی غیر یقینی، اور اوورسیز پاکستانیوں کی تشویش۔ ایسے میں عمان جیسے دوست ملک کی طرف سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا جانا اسلام آباد کے موقف کے لیے ایک اہم تائیدی اشارہ ہے۔

پاکستان اور عمان کے تعلقات عام طور پر خاموش مگر مضبوط سمجھے جاتے ہیں، اس لیے یہ ملاقات اس بات کی یاد دہانی ہے کہ علاقائی امن میں پاکستان کا کردار محض تماشائی کا نہیں بلکہ بات چیت، رابطے اور کم کشیدگی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ عوام کے لیے بھی یہ اہم ہے کیونکہ جنگی ماحول بالآخر قیمتیں، روزگار، سمندر پار سفر اور خطے کے استحکام کو متاثر کرتا ہے۔

عمل یا حل

اب سوال یہ ہے کہ کیا خطے کے بڑے فریق واقعی کشیدگی کم کرنے کی طرف جائیں گے یا صورتحال مزید بگڑے گی؟ پاکستان کی سفارت کاری اسی وقت مؤثر سمجھی جائے گی جب وہ صرف بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ مسلسل رابطوں، دوست ممالک کی حمایت، اور متوازن مؤقف کے ذریعے عملی نتائج دے۔ عمان کے ساتھ یہ ملاقات اسی سمت ایک مثبت اشارہ ہے۔

پاکستان کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ خطے میں امن، مذاکرات اور ڈی-ایسکلیشن کے بیانیے کو آگے بڑھاتا رہے، کیونکہ جنگ کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ پورے خطے کی معیشت، سلامتی اور عوامی زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ سفارتی سرگرمی صرف خیرسگالی تک رہتی ہے یا واقعی تناؤ کم کرنے میں کردار ادا کرتی ہے؟