پاکستان میں حکمرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آ گیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ ملکی مسائل کے حل کے لیے اختیارات کی منتقلی اب بلا تاخیر ہونی چاہیے۔ اس دوران انہوں نے نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے طرز عمل اور موقف پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
اس معاملے پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے ایک تجویز پیش کی ہے جس میں انتظامی سہولت کے لیے ملک بھر میں تقریباً 15 نئے صوبے بنانے پر سیر حاصل قومی مباحثے کی دعوت دی گئی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس کی مدد سے عوام کے بنیادی مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنا آسان ہو جائے گا۔
دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا کوئی بھی فیصلہ مقامی آبادی کی مرضی اور ان کے مکمل اعتماد کے بغیر ممکن نہیں بنایا جائے گا۔ فی الوقت اس موضوع پر ملک کے سیاسی اور ایوانی حلقوں میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔