مکمل تفصیلات

منگل کے روز اسرائیل میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ ہوئی، اور یہ 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد ملک کا پہلا انتخاب تھا۔ وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو، جو اپنی سیاسی بقا کے لیے دباؤ میں تھے، اپنے ووٹ بینک کو متحرک کرنے میں مصروف رہے۔ اسی انتخاب میں اسرائیلی عرب ووٹرز کی شرکت بھی غیر معمولی طور پر زیادہ رہی، جس پر نیتن یاہو نے یہ خوف ظاہر کیا کہ اقلیتی برادری کے رہنما انتخابی نتیجے کو اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ووٹنگ کے اختتام پر پہلے ایگزٹ پولز سامنے آئے، جن کے مطابق اپوزیشن اتحاد کو نیتن یاہو کے بلاک پر معمولی سبقت حاصل تھی، مگر 120 رکنی کنیسٹ میں کسی بھی اتحاد کو واضح اکثریت نہیں ملی۔ چینلز 11، 12 اور 13 کے بڑے پولسٹرز نے اپوزیشن کے لیے 52 یا 53 نشستیں اور نیتن یاہو کے اتحاد کے لیے 50 نشستوں کی پیشگوئی کی۔ ان ہی اندازوں کے مطابق لیکڈ پارٹی 24 یا 25 نشستوں کے ساتھ پارلیمان کی سب سے بڑی واحد جماعت بن سکتی تھی۔

نیتن یاہو کی لیکڈ پارٹی نے انتخابی حکام سے یہ بھی کہا تھا کہ پولنگ کا وقت رات 10 بجے کے بعد بڑھایا جائے، یعنی 1 بجے پاکستان وقت تک، مگر یہ کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔ خبر کے مطابق یہ صورتحال اسرائیلی سیاست میں طاقت کی نئی کشمکش، عرب ووٹ اور دائیں بازو کے ایجنڈے کے گرد بڑھتی ہوئی تقسیم کو نمایاں کرتی ہے۔

اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2040163/netanyahu-scrambles-for-votes-as-israelis-turn-out-in-record-numbers

عوامی اثرات

یہ انتخاب صرف اسرائیل کی داخلی سیاست کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد پیدا ہونے والی سکیورٹی، قیادت اور پالیسی کی کشمکش کا بھی امتحان تھا۔ نیتن یاہو کے لیے کمزور نتیجہ اُن کی حکومت، جنگی پالیسی اور آئندہ اتحادی مذاکرات پر براہِ راست اثر ڈال سکتا تھا۔ دوسری طرف عرب ووٹرز کے بڑھتے ہوئے ٹرن آؤٹ نے وہاں کی نسلی اور سیاسی تقسیم کو مزید نمایاں کر دیا۔

پاکستانی ناظرین کے لیے بھی یہ خبر اہم ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، جنگ اور اتحادی حکومتوں کی تبدیلی خطے کے حالات، سفارتی بیانیے اور فلسطین کے مسئلے پر اثر ڈالتی ہے۔ جب کسی ملک میں ووٹ، شناخت اور قومی سلامتی ایک ساتھ بحث بن جائیں تو اس کا اثر صرف پارلیمنٹ تک محدود نہیں رہتا، بلکہ سڑکوں، میڈیا اور عالمی سفارت کاری تک پھیلتا ہے۔

عمل یا حل

اس خبر کا فوری نتیجہ یہ ہے کہ اب نگاہیں کنیسٹ میں حکومت سازی کے حساب کتاب پر ہیں: کس اتحاد کو کتنی نشستیں ملتی ہیں، اور آیا کوئی بلاک اکثریت کے قریب پہنچ پاتا ہے یا نہیں۔ اگر اپوزیشن اور نیتن یاہو کے اتحاد کے درمیان فرق بہت کم رہا تو اسرائیل میں سیاسی سودے بازی، اتحادی معاہدے اور ممکنہ طور پر نئی سیاسی کشمکش مزید تیز ہو سکتی ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیلی ووٹرز نے نیتن یاہو کے سخت گیر راستے کو برقرار رکھنے کا اشارہ دیا، یا وہ کسی نئی سمت کے حق میں ہیں؟ عرب ووٹرز کے بڑھتے ہوئے اثر اور کمزور اکثریت کے منظرنامے میں ہر نشست اہم ہو گئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ نتیجہ صرف حکومت بدلتا ہے یا اسرائیل کی پالیسی، بیانیہ اور خطے کے ساتھ اس کے تعلقات پر بھی اثر ڈالتا ہے۔