مکمل تفصیلات
اسلام آباد میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے جمعہ کے روز Competitive Trading Bilateral Contract Market (CTBCM) کے لیے استعمالِ نظام چارجز یعنی Use-of-System Charges (UoSC) کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ یہ چارجز 6.23 روپے سے 19.62 روپے فی یونٹ تک مقرر کیے گئے ہیں اور ان کا اطلاق تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے بڑے بجلی صارفین (Bulk Power Consumers) پر ہوگا، جن میں K-Electric کے صارفین بھی شامل ہیں۔
یہ چارجز ان اوپن ایکسس صارفین سے وصول کیے جائیں گے جو آنے والی 400 میگاواٹ کی نیلامی میں حصہ لیں گے۔ UoSC میں ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے اخراجات، فکسڈ گرڈ چارج اور کراس سبسڈی شامل ہے۔ اس کے تحت B-3 صنعتی صارف سے 6.23 روپے فی یونٹ جبکہ B-4 صنعتی صارف سے 9.09 روپے فی یونٹ وصول کیے جائیں گے۔
یہ رقم اس بجلی کی قیمت کے علاوہ ہوگی جو نجی شعبے کا سپلائر اور بڑا صارف آپس میں طے کریں گے، یعنی اصل بجلی نرخ کے اوپر ایک اضافی بوجھ بھی شامل ہو جائے گا۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس وقت ملک بھر میں 3,000 سے کچھ زیادہ Bulk Power Consumers موجود ہیں۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2036102/nepra-clears-use-of-system-charges-for-competitive-power-market
تاریخ: جمعہ، 2026-10-10 / رپورٹ 12:04 PKT پر شائع ہوئی۔
عوامی اثرات
اس فیصلے کا براہِ راست اثر ان صنعتی اور بڑے تجارتی صارفین پر پڑے گا جو روایتی بجلی خریدنے کے بجائے اوپن ایکسس یا مسابقتی مارکیٹ کے ذریعے بجلی لینا چاہتے ہیں۔ چونکہ UoSC بجلی کی اصل قیمت کے علاوہ ادا کرنا ہوگا، اس لیے فی یونٹ لاگت بڑھنے کا امکان ہے، اور اس کا دباؤ پیداوار کی لاگت، صنعتی منصوبہ بندی اور مجموعی کاروباری فیصلوں پر پڑ سکتا ہے۔
پاکستان میں بجلی پہلے ہی مہنگی، غیر یقینی اور پالیسی تبدیلیوں سے متاثرہ مسئلہ ہے، اس لیے یہ نوٹیفکیشن صرف ایک ریگولیٹری خبر نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی سمت اشارہ ہے جہاں بڑی صنعتیں اپنی سپلائی کے لیے نئے راستے آزما رہی ہیں۔ اگر یہ نظام عملی طور پر چل پڑا تو اس کے اثرات بجلی کے بازار، سرمایہ کاری کے ماحول اور صنعتی مسابقت پر واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
عمل یا حل
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیسیں واقعی شفاف اور مسابقتی بجلی منڈی کو فروغ دیں گی، یا پھر بڑے صارفین کے لیے ایک اور مہنگا مرحلہ ثابت ہوں گی؟ نیپرا کے اس اقدام کے بعد اوپن ایکسس مارکیٹ میں داخل ہونے والے صارفین کو اپنی لاگت پہلے سے زیادہ باریکی سے حساب کرنا پڑے گا، کیونکہ بجلی کی خرید اب صرف جنریشن ریٹ پر نہیں بلکہ نیٹ ورک استعمال کے اخراجات پر بھی منحصر ہوگی۔
صنعتی صارفین، پالیسی ساز اور بجلی کے شعبے کے ماہرین اب اس بات پر نظر رکھیں گے کہ 400 میگاواٹ کی آنے والی نیلامی میں شرکت کتنی عملی بنتی ہے اور آیا یہ ماڈل واقعی مقابلہ بڑھاتا ہے یا صرف اضافی چارجز بڑھاتا ہے۔ بحث یہی ہے: کیا پاکستان کا پاور سیکٹر آخرکار کھلی منڈی کی طرف جا رہا ہے، یا قیمتوں کے نئے بوجھ کے ساتھ پرانی مشکلات ہی نئے ناموں سے واپس آ رہی ہیں؟