عوامی اثرات
عوامی سطح پر اس فیصلے کے اثرات انتہائی تشویشناک اور سنگین ہیں کیونکہ پاکستان کے عوام پہلے ہی بجلی کے کمر توڑ بلوں اور بدترین لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ جب توانائی کے فیصلے کرنے والا سب سے بڑا ادارہ نیپرا خود اندرونی طور پر اتنے بڑے منصوبے پر تقسیم نظر آئے گا، تو عوام کا پورا نظام پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ 58 ارب ڈالر کی یہ بھاری سرمایہ کاری بالآخر صارفین کے بلوں پر ٹیکسز اور ٹیرف کی شکل میں لادی جائے گی، جس سے بجلی مزید مہنگی ہونے کا واضح خطرہ ہے۔
اس معاملے کا دوسرا تاریک پہلو صوبائی حقوق اور آئینی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا ہے۔ مشترکہ مفادات کونسل (CCI) جیسے اہم آئینی فورم کو نظرانداز کر کے یکطرفہ فیصلے کرنا وفاق اور صوبوں کے درمیان خلیج کو مزید وسیع کرے گا۔ کراچی جیسے پہلے ہی بجلی کے بحران سے متاثرہ شہر کے لیے کے-الیکٹرک کے منصوبوں کو اس پلان سے باہر رکھنا شہر کے شہریوں کے لیے بجلی کی فراہمی میں نئی رکاوٹیں کھڑی کر سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر کراچی کے تاجروں اور عام شہریوں کی زندگیوں پر پڑے گا۔
عمل یا حل
اس بحران سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر پارلیمنٹ اور عدلیہ کو مداخلت کرنی چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی بڑا ترقیاتی منصوبہ آئینی فورم یعنی مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کی منظوری کے بغیر نافذ نہ کیا جائے۔ نیپرا کے اراکین کی جانب سے اٹھائے گئے تمام اختلافی نکات کی روشنی میں اس پورے 11 سالہ منصوبے کا ایک آزاد اور شفاف تھرڈ پارٹی آڈٹ ہونا ضروری ہے تاکہ عوام کے اربوں ڈالر من پسند اور غیر ضروری منصوبوں کی نذر ہونے سے بچائے جا سکیں۔
اس کے علاوہ، صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور میڈیا کو اس معاملے پر مسلسل دباؤ برقرار رکھنا ہوگا تاکہ بجلی کے ٹیرف میں ممکنہ اضافے کو روکا جا سکے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یکطرفہ بیوروکریٹک فیصلوں کے بجائے عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے۔ کیا عوام کو اندھیرے میں رکھ کر اور آئینی اداروں کو بائی پاس کر کے بنائے جانے والے یہ منصوبے واقعی ملکی ترقی کے لیے ہیں، یا یہ صرف چند مخصوص حلقوں کو نوازنے کی کوشش ہے؟ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟